.

سیستانی کے بعد الصدر کا بھی خامنہ ای کے مندوب سےملنے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی سرکردہ شیعہ مذہبی قیادت نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خصوصی ایلچی سے ملاقات سے انکار کردیا ہے۔

عراق سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق عراق میں اہل تشیع کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی سیستانی کے بعد مقتدیٰ الصدر نے بھی ایرانی سپریم لیڈر کے نمائندے سے ملنے سے انکار کر دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کا کارندہ خاص محمود ھاشمی شاھرودی عراق کے دورے پر ہے جہاں اس نے علی السیستانی اور مقتدیٰ الصدر سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی مگر دونوں رہ نماؤں نے شاہرودی سے ملاقات سے انکار کردیا ہے۔ شاھرودی دو روز قبل علی السیستانی سے ملنے نجف گئے تھے مگرانہوں نے ملاقات کا وقت نہیں دیا۔

عراق کے ذرائع ابلاغ کے مطابق مقتدیٰ الصدر کے مقرب ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق الصدر نے بھی ھاشمی شاھرودی سے ملاقات سے انکار کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی مندوب عراق میں فرقہ وارانہ پروگرام کو آگے بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ عراق کی نمائندہ شیعہ قیادت ان کی حمایت نہیں کرتی۔

الصدر گروپ کے پارلیمانی لیڈر امیر الکنانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقتدیٰ الصدر نے خامنہ ای کے مندوب سے اس لیے ملنے سے انکار کیا ہے کیونکہ ایران عراق کے اندرونی امور میں مداخلت کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران عراق کو فرقہ واریت کی غار میں دھکیلنا چاہتا ہے مگر عراقی قیادت اور قوم جانتی ہے کہ فرقہ واریت ملک و قوم کے مفاد میں نہیں۔