.

عسکری جارحیت ہماری طرف سے نہیں آئی ، قطر کا منفی رجحان واضح ہے : بحرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرین کے وزیر خارجہ شیخ خالد بن احمد آل خلیفہ نے باور کرایا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی دعوت دینے والے چاروں ممالک سعودی عرب ، امارات ، بحرین اور مصر نے نہ کبھی قطر کو عسکری طور پر دھمکانے کی کوشش کی اور نہ کریں گے.. تاہم کسی جانب کو اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ ان ممالک کے عوام کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بنے۔

جمعے کے روز ٹوئیٹر پر اپنی مختلف ٹوئیٹس میں شیخ خالد نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ قطر کے جواب کا منفی رجحان واضح ہو چکا ہے۔ قطر کی جانب سے ہر اُس بات چیت کے سامنے شرائط اور رکاوٹیں رکھی جا رہی ہیں جو انسداد دہشت گردی کے داعی ممالک کے مطالبات کو پورا کرنے کے حوالے سے کی جا رہی ہو۔

بحرین کے وزیر خارجہ کے مطابق کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد الجابر الصباح نے اب تک اپنے دل سے بات کہی ہے اور وہ جانتے ہیں کہ دوحہ کا بائیکاٹ کرنے والے ممالک کی جانب سے عسکری جارحیت سامنے نہیں آئی۔

شیخ خالد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قطر نے خطرناک پیش رفت میں فوجیوں اور عسکری گاڑیوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے جب کہ اس دوران چاروں ممالک نے قطر کی جانب سے اڑتے ہوئے آنے والے دہشت گردی کے شر اور تکلیف کے مُنہ پر اپنے دروازے بند کر لیے۔

قطر کا بائیکاٹ کرنے والے چاروں ممالک نے جمعرات کی شام ایک بیان جاری کیا تھا جس میں باور کرایا گیا کہ قطر کو پیش کیے جانے والے مطالبات پر عمل درامد کے حوالے سے دوحہ کے ساتھ بات چیت پیشگی شرائط کے بغیر ہونی چاہیّے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ عسکری آپشن نہ کبھی سامنے رہا اور نہ ہوگا۔ بیان میں کہا گیا کہ چاروں ممالک کویت کے امیر کی ثالثی کی کوششوں کو گراں قدر مانتے ہیں۔

چاروں ممالک نے باور کرایا کہ قطر کے ساتھ بحران خلیجی اختلاف نہیں ہے بلکہ یہ متعدد عرب اور اسلامی ممالک کے متعلق ہے جنہوں نے قطر کی مداخلت اور دہشت گردی کے لیے اس کی سپورٹ کے حوالے سے اپنے مواقف کا اعلان کیا۔ ان کے علاوہ پوری دنیا میں بہت سے دیگر ممالک ہیں جو اپنے موقف کا اعلان نہیں کر سکے۔