.

یمن : حوثیوں کی عسکری کُمک علی صالح کے آبائی علاقے پہنچ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی ذرائع نے جمعے کے روز بتایا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے معزول صدر علی عبداللہ صالح کے آبائی ضلعے اور قبیلے سنحان بھیجی جانے والی عسکری کمک علاقے میں پہنچ کر تعینات ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق سنحان بھیجی جانے والی کمک کافی بڑی ہے اور حوثیوں نے اس اندیشے کے پیش نظر کہ سنحان قبیلہ علی صالح کی مدد کے لیے حرکت میں نہ آ جائے.. ضلعے کے مختلف علاقوں میں مسلح عناصر کو مضبوط کر دیا ہے۔

حوثی ملیشیا اور صالح کے درمیان دو ہفتوں سے اختلافات میں انتہائی شدت آ گئی ہے۔

یاد رہے کہ مذکورہ اختلافات 24 اگست کے بعد سے نمایاں طور پر سامنے آئے جب علی صالح نے اپنی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کی تاسیس کے 35 سال پورے ہونے پر صنعاء میں ایک مظاہرے کا مطالبہ کیا تھا۔

مظاہرے کے چند روز بعد حوثی ملیشیا کے ایک اہم رہ نما نے شعلہ انگیز بیان میں کہا کہ "علی صالح 24 اگست کو صنعاء میں ہمارا تختہ الٹنے کے لیے آیا تھا"۔ حوثیوں کے سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی کے مطابق علی عبداللہ صالح کی سرگرمی کا مقصد احتجاجی دھرنے دینا تھا اور اگر منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے مناسب سکیورٹی اقدامات نہ کیے گئے ہوتے تو حقیقتا ایسا ہو جانا تھا۔