.

طالبان کے لیے ایرانی سپورٹ کے دستاویزی ثبوت ملے ہیں : افغانستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل محمد شریف یافتالی نے کہا ہے کہ ایران افغانستان میں بالخصوص مغربی علاقوں میں تحریکِ طالبان کو عسکری ساز و سامان اور دیگر نوعیت کی سپورٹ پیش کر رہا ہے۔

یافتالی کی جانب سے یہ بات جمعے کے روز برطانوی چینل بی بی سی کو دیے گئے بیان میں سامنے آئی۔ یافتالی کے مطابق امریکی اور افغان ذمے داران یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں عدم استحکام کے لیے ایران خاموشی کے ساتھ اپنی خفیہ کوششوں کو بڑھا رہا ہے تا کہ امریکا کو طویل جنگ میں ملوث رکھ سکے"۔

جنرل یافتالی نے باور کرایا ہے کہ افغان وزارت داخلہ کو ملک کے مغرب میں ایسی دستاویزات ملی ہیں جو تحریک طالبان کے لیے ایرانی عسکری سپورٹ کی تصدیق کرتی ہیں۔ یافتالی نے بتایا کہ وہ مذاکرات ، مفاہمت اور اقدامات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ماضی میں بھی بعض افغان ذمے داران بالخصوص افغان پولیس افسران اسی سے ملتے جلتے شواہد پیش کر چکے ہیں تاہم وزارت دفاع کے بعض ذمے داران نے اس کی تردید کر دی۔

یاد رہے کہ افغان ذمے داران نے امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" کو تصدیق کی تھی کہ ایران نے قاتلوں کی ٹیموں اور جاسوسوں کو افغانستان بالخصوص مغربی صوبوں میں بھیجا جو پولیس اور حکومتی انتظامیہ میں دراندازی کر گئے۔