.

قطر کے واضح موقف کے اعلان تک بات چیت معطل کرتے ہیں : سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے قطر کی جانب سے اپنے موقف کے بارے میں اعلانیہ واضح بیان کے جاری ہونے تک دوحہ کے ساتھ کسی بھی بات چیت کو معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

سعودی وزارت خارجہ کے ایک ذمے دار ذریعے نے جمعے کے روز کہا کہ "قطر کی خبر رساں ایجنسی نے جو کچھ نشر کیا ہے اس کا کسی طور بھی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ قطری حکام کی جانب سے جاری حقائق کی تحریف کا حصہ ہے۔ یہ امر اس بات کی دلیل ہے کہ قطری حکام نے ابھی تک اس بات کو قبول نہیں کیا ہے کہ مملکت سعودی عرب قطری حکام کی جانب سے معاہدوں اور حقائق میں ہیرا پھیری سے کسی طور بھی درگزر کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

سعودی ذریعے نے امیر قطر کی جانب سے سعودی ولی عہد کو کی جانے والی ٹیلی فون کال کی بات چیت کو توڑ موڑ کر پیش کیے جانے کی طرف بھی اشارہ کیا اور بتایا کہ یہ رابطہ قطر کی درخواست پر عمل میں آیا تھا۔

سعودی ذمے دار ذریعے نے واضح کیا کہ "یہ امر ثابت کرتا ہے کہ قطر میں حکام بات چیت میں سنجیدہ نہیں اور اپنی سابقہ پالیسی کو جاری رکھے ہوئے ہیں لہذا مملکت سعودی عرب قطر کے حکام کے ساتھ کسی بھی بات چیت یا رابطے کو معطل کرنے کا اعلان کرتی ہے یہاں تک کہ دوحہ کی جانب سے اعلانیہ صورت میں اپنا موقف واضح کرنے کے لیے بیان جاری کیا جائے۔ یہ بیان اعلانیہ طور پر اس کی جانب سے پاسداری پر عمل درامد سے مطابقت رکھتا ہو۔ مملکت اس بات کو باور کراتی ہے کہ قطری پالیسی میں گڈمڈ کا عنصر کسی طور بھی بات چیت کے لیے مطلوب اعتماد کی فضا قائم نہیں کرے گا"۔

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے گزشتہ روز جمعے کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔ بات چیت میں امیر قطر نے تمام تنازعات اور اختلافات مذاکرات کی میز پرحل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ امیر قطر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک بائیکاٹ کرنےوالے چاروں ممالک کے اعتراضات دور کرنے اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کی ضمانت پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔

سعودی خبر رساں ایجنسی SPA کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امیر قطر کے فون کا خیر مقدم کیا اور ان کی جانب سے بات چیت کے ذریعے تمام مسائل کے حل پر آمادگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ امیر قطر اور ولی عہد کے درمیان ہونے والی بات چیت کے حوالے سے سعودی عرب متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کو اعتماد میں لے گا۔