حوثیوں کی کریک ڈاؤن مہم کے بعد علی صالح ملیشیا الرٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں ایران نواز حوثی ملیشیا کی جانب سے اپنے حلیف مںحرف سابق صدر علی عبداللہ صالح کے ماتحت ری پبلیکن گارڈ کےاہلکاروں کی گرفتاریوں کے بعد فریقین میں کشیدگی ایک بار پھر عروج پر ہے۔ اطلاعات کے مطابق علی صالح کی وفادار ملیشیا اور ری پبلیکن گارڈز نے جمعہ کے روز سے جاری کریک ڈاؤن کے بعد صنعاء میں کسی بھی ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حوثی باغیوں اور علی عبداللہ صالح ملیشیاؤں کے درمیان تازہ کشیدگی فریقین میں ایک دوسرے کے حوالے سے پائے جانے والے شکوک وشبہات اور گذشتہ چند ہفتوں سے جاری محاذ آرائی کے تاثر کو مزید تقویت دے رہی ہے۔

یمن میں آئینی حکومت کے خلاف مل کر سازشیں کرنے والے علی صالح اب خود بھی ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں سے نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ خاص طور پر گذشتہ جمعہ سے حوثیوں نے صنعاء میں علی صالح کے حامیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کرکے کشیدگی میں مزید اضافہ کیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ حوثیوں اور علی صالح کے درمیان پائے جانے والے اختلافات دونوں گروپوں میں کسی نئی جنگ کا موجب بھی بن سکتے ہیں۔ صنعاء میں اٹھنے والی تشدد کی لہر جنوبی شہر سنحان تک پھیل چکی ہے۔ سنحان ڈاریکٹوریٹ علی صالح کا آبائی شہر اور ان کے حامیوں کا گڑھ ہے۔عرب اتحادی فوج کے طیاروں کی جانب سے صنعاء میں حوثیوں کی تنصیبات پر بمباری کے بعد علی صالح کی وفادار ملیشیا نے دارالحکومت میں اپنے طور پر سیکیورٹی کے سخت ترین اقدامات کیے ہیں۔ نہ صرف صنعاء بلکہ اطراف میں ضبوۃ کیمپ اور ریمہ حمید کے مقامات پر ری پبلیکن گارڈز نے ہائی الرٹ کے ساتھ کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کی مکمل تیاری کر رکھی ہے۔

ذرائع کے مطابق علی عبداللہ صالح نے ری پبلیکن گارڈز کی سینیر کمان کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ضبوۃ کیمپ اور ریمہ حمید کے اہم مقامات کی سیکیورٹی بڑھا دیں کیونکہ ان دونوں مقات پر حوثیوں کی طرف سے کسی بھی وقت دھاوا بولے جانے کا امکان موجود ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں