حوثی لیڈر کی علی صالح کے بیٹے کی گرفتاری کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن میں آئینی حکومت کے خلاف سرگرم حوثی گروپ کے ایک سرکردہ لیڈر نے اپنے حلیف سابق صدر علی عبداللہ صالح کے بیٹے کی گرفتاری کی دھمکی دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق علی صالح کے بیٹے صلاح علی صالح کی گرفتاری کی یہ دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری جانب دارالحکومت صنعاء میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ حوثیوں کی جانب سے دارالحکومت میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا گیا ہے۔

اسی اثناء میں حوثی گروپ کے ایک سرکردہ لیڈر عبدالحکیم الخیوانی نے الزام عائد کیا ہے کہ 27 اگست کو صنعاء میں حوثیوں اور علی صالح کے حامیوں کے درمیان کشیدگی کا ذمہ دار مںحرف سابق صدر علی صالح کا بیٹا صلاح علی صالح ہے۔ اسی کسی بھی وقت گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

عبدالحکیم الخیوانی حوثیوں کی قائم کردہ نام نہاد حکومت میں نائب وزیر داخلہ بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دارالحکومت میں ہنگامی حالت کا نفاذ ناگزیر ہے بالخصوص جب سے ان کے حلیف علی صالح نےاتحاد کو نقصان پہنچاتے ہوئے باغیوں کا تختہ الٹنے کے لیے عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی اس کے بعد صنعاء میں ہنگامی حالت کا نفاذ ضروری ہوگیا تھا۔

الخیوانی جنہیں عسکری اور فوجی امور سے کوئی تعلق نہ ہونے کے باوجود باغیوں نے بریگیٰڈیئر کا لقب دے رکھا ہے حوثیوں کے ترجمان ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ صنعاء میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا مقصد مجرموں کا تعاقب کرنا اور انہیں دارالحکومت میں اپنی مرضی کرنے سے روکنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد سیکیورٹی ادارے بہتر طریقے سے اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ 27 اگست کو سابق صدر علی عبداللہ صالح نے صنعاء میں اپنی پارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا تھا جس پر حوثیوں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔ اس موقع پر حوثیوں اور علی صالح کے حامیوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے۔

حوثی تشدد کے اس واقعے کا ذمہ دار علی صالح اور اس کے بیٹے صلاح علی صالح کو قرار دیتے ہیں۔

حوثیوں کی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صنعاء میں ہونے والی جھڑپوں کا ذمہ دار ایک غیرقانونی گروپ ہے۔ بیان سے غیرقانونی گروپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے علی صالح کے بیٹے صلاح صالح اور اس کے محافظوں کو مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں