فٹ بال گراؤنڈ ایرانی خواتین کے لیے حرام، شامیوں کے لیے حلال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں فٹ بال مقابلوں کے دوران ایرانی خواتین پر اسٹیڈیم میں داخلے پر پابندیوں کا معاملہ ایک بار پھر خبروں میں ہے۔

اطلاعات کے مطابق گذشتہ منگل کو تہران کے آزادی اسٹیڈیم میں ہونے والے ایک فٹ بال میچ کے دوران ایران کی دوغلی پالیسی ایک بار پھر واضح دکھائی دی۔ اس موقع پر شامی خواتین تماشائیوں کو بھی اسٹیڈیم میں میچ دیکھنے کی مکمل آزادی فراہم کی گئی مگر دوسری طرف ایرانی خواتین کو بدستور کھیل جیسی صحت مند سرگرمیوں کو دیکھنے سے روک دیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر ایرانی سرکار کے اس دوغلے پن کا کافی چرچا ہے اور لوگ ایرانی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بھلا جو چیز ایرانی خواتین کے لیے حرام ہے وہ شامی خواتین کے لیے کیسے حلال ہوگئی۔

صرف سماجی کارکن اور عام شہری نہیں بلکہ خود ایرانی حکومت کے اندر سے بھی ایسی آوازیں بلند ہو رہی ہیں جن میں خواتین کے ساتھ برتے جانے والے صنفی امتیازی سلوک کی مذمت کی جا رہی ہے۔

صدر حسن روحانی کی معاون خصوصی معصومہ ابتکار نے اعتراف کیا ہے کہ کھیل کے معاملے میں ریاست خواتین کےساتھ امتیازی سلوک کررہی ہے۔

ایران کےسرکاری ٹی وی پربھی تہران کے آزادی اسٹیڈیم میں ہونے والا میچ دکھایا گیا۔ میچ کے شروع ہوتے ہی سوشل میڈیا بالخصوص ’فیس بک‘ اور انسٹا گرام پر شامی خواتین تماشائیوں کی تصاویر کا ایک سیلاب امڈ آیا۔ یہ خواتین اپنے ملک کی کسی ٹیم کی حمایت نہیں بلکہ ایرانی فٹ بال ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے اسٹیڈیم میں داخل ہوئیں۔ سیکڑوں نوجوان اور ’بے پردہ‘ شامی دو شیزاؤں کو اسٹیڈیم میں جانے، ٹیم کی حمایت میں نعرے لگانے اور کھیل کا تماشا دیکھنے کی اجازت دی گئی مگر مقامی ایرانی خواتین کو یہ حق نہیں دیا گیا۔

خیال رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں خواتین کی سرگرمیوں پر پابندیاں عاید ہیں۔ ریاست کے اعلیٰ اور کلیدی عہدوں پربھی صرف مذہبی مرد فائز کیے جاتے ہیں۔ ایران میں خواتین کے ساتھ برتے جانے والے غیر منصفانہ سلوک پر انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی آواز بلند کرتی ہیں مگر ایرانی رجیم پر ان مطالبات کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں