قطر ریاض اور ابوظبی کے بیچ آگ بھڑکانے میں ناکام رہا ہے : قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے باور کرایا ہے کہ قطر ریاض اور ابوظبی کے بیچ دراڑ ڈالنے میں ناکام رہا ہے۔ ہفتے کے روز اپنی سلسلہ وار ٹوئیٹس میں انہوں نے دوحہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مشق سے رُک جائے۔ قرقاش نے قطر پر زور دیا کہ سعودی عرب کے ساتھ معاملہ کرنے کے لیے شفافیت بہترین طریقہ ہے۔

سعودی عرب نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ قطر کی جانب سے اعلانیہ صورت میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کے حوالے سے بیان جاری ہونے تک دوحہ کے ساتھ ہر قسم کی بات چیت اور مذاکرات کو معطل کرتا ہے۔

یہ پیش رفت سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو قطر کے امیر شيخ تميم بن حمد کی جانب سے موصول ہونے والی ٹیلی فون کال کے بعد سامنے آیا ہے جس میں شیخ تمیم نے مذاکرات کی میز پر آنے اور سعودی عرب ، امارات ، بحرین اور مصر کے مشترکہ 13 مطالبات پر بات چیت کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ تاہم قطری خبر رساں ایجنسی نے رابطے کے کچھ ہی دیر بعد یہ شوشہ چھوڑ دیا کہ فون کال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رابطہ کاری سے ہوئی۔ سعودی حکام نے باور کرایا کہ یہ بات حقیقت کے خلاف اور واقعے کو توڑ موڑ کر پیش کرنا ہے۔

انور قرقاش کے مطابق قطری میڈیا ایک مرتبہ پھر سعودی اماراتی محاذ کے خلاف کام کرنے پر لوٹ آیا ہے جو کہ انتہائی افسوس ناک ہے کیوں کہ وہ اس کوشش میں ہر گز کامیاب نہیں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "بوکھلائے ہوئے برادر ملک قطر پر لازم ہے کہ وہ اس بات کو سمجھے کہ یہ بحران مصنوعی نہیں ہے بلکہ دوحہ کی جانب سے شدت پسندی کی سپورٹ اور پڑوسی ممالک کے استحکام کے خلاف سازش کرنے کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک حقیقی سیاسی بحران ہے اور اس سے میڈیا کے ذریعے نہیں نمٹا جا سکتا"۔

قرقاش نے اپنی ٹوئیٹ میں کہا کہ "ہم نے گزشتہ روز جو کچھ دیکھا وہ امید افزا تھا مگر افسوس کہ حکمت و دانش نہ ہونے کے سبب موقع ضایع ہو گیا اور قطر آج پہلے سے زیادہ دشوار پوزیشن میں ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں