ایران: سُنّی علاقوں میں پاسداران انقلاب کی بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ سرگرمیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ایران میں حکومتی نظام کی جانب سے سنیوں کے خلاف معمول کا کریک ڈاؤن اور فرقہ وارانہ کارستانیاں ملک میں خانہ جنگی کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بن چکی ہیں۔ یہ بات اصلاح پسند اپوزیشن کی ایک نئی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔

اپوزیشن کے نزدیک شمار کی جانے والی ویب سائٹ آمد نیوز پر نشر ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنی اکثریتی علاقوں میں پاسداران انقلاب کے جارحانہ اور اشتعال انگیز اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملک کے جنوبی علاقوں بالخصوص سیستان ، بلوچستان اور خراسان کے صوبوں میں پاسداران انقلاب کی مذہبی شخصیات اور اداروں کی سرگرمیوں میں بدستور اضافہ ہو رہا ہے۔

ان سرگرمیوں میں فرقہ وارانہ چھاپ کی حامل دعوتی مجالس شامل ہیں۔ جس کی تازہ ترین مثال عید غدیر کا منانا ہے۔ شیعوں کی جانب سے سنیوں کے علاقوں میں عید غدیر کا منایا جانا سنیوں کی نظر میں واضح طور پر ایک اشتعال انگیز امر ہے۔

غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایران میں سنیوں کی تعداد کُل آبادی کا 25% ہے جو مخلتف علاقوں بالخصوص عرب اہواز ، بلوچستان اور کردستان میں تقسیم ہیں۔

اسی طرح ایرانی نظام پر سنیوں کو الگ تھلگ کرنے کے علاوہ سنی صوبوں میں ترقیاتی امور کو معطل کرنے کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں