ایران نے 11 ستمبر کے حملہ آوروں کو سفری سہولیات دیں: تحقیقاتی رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

العربیہ نیوز چینل کی تیار کردہ دستاویزی فلم "ایران.. 11 ستمبر" جمعے کی شب نشر کی گئی۔ اس فلم میں ایران اور لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے القاعدہ تنظیم سے تعلق کے بارے میں ایسے شواہد شامل تھے جو پہلی مرتبہ پیش کیے گئے۔ بالخصوص القاعدہ ارکان کی تربیت اور بڑے دہشت گرد حملوں کے لیے تیاری کے حوالے سے جن میں 11 ستمبر کے حملے شامل ہیں۔

دستاویزی فلم میں گیارہ ستمبر کے حملوں میں ایران کے کردار پر روشنی ڈالی گئی۔ اس سلسلے میں ایک امریکی ماہر نے باور کرایا کہ ایران اور حزب اللہ نے ان گیارہ ستمبر کے حملوں میں بنیادی اور مرکزی کردار ادا کیا اور اگر ان دونوں کا کردار اور ہدایات نہ ہوتیں تو یہ خونی حملہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔

حملوں کے حوالے سے تحقیقات کرنے والے کمیشن کی انٹرنیٹ پر موجود رپورٹ کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایران نے حملے سے پہلے کے عرصے میں کئی اغوا کاروں اور القاعدہ کے بہت سے اہم ارکان کے سفر کو آسان بنایا۔

رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی کمیشن کے کام مکمل کرنے کے کچھ عرصے بعد ایسے اشارے ملے تھے کہ ایران نے زیادہ بڑا کر دار ادا کیا۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ مذکورہ اشاروں کی زیادہ گہرائی کے ساتھ تحقیق ہونا چاہیے۔

جینز کیپ ہارٹ جو 11 ستمبر کے حملوں کے تحقیقاتی کمیشن کی سابق رکن ہیں.. ان کے نزدیک ایران نے 11 ستمبر کے حملوں میں براہ راست لوجسٹک سپورٹ فراہم کی۔ اس سلسلے میں جہازوں کے اغوا کاروں کو تربیت کے لیے ایران آنے اور پھر واپس لوٹنے میں سپورٹ کیا گیا۔ کیپ ہارٹ کے مطابق ایران کی دہشت گردی کی دست راست ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے بھی 11 ستمبر کے حملہ آوروں کی ایران آمد اور واپسی میں بھرپور مدد کی۔

یاد رہے کہ مذکورہ دستاویزی فلم میں ایسی متعدد آراء پیش کی گئی ہیں جن سے ایران کا ان حملوں میں ملوث ہونا ثابت ہوتا ہے۔
اس دستاویزی فلم کی عکس بندی کچھ عرصہ قبل امریکا میں کی گئی۔ اس میں گیارہ ستمبر کے حملوں کی تحقیقات کا جائزہ لینے والی شخصیات کے علاوہ ایران کے معاملے اور ایبٹ آباد میں القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت سے قبل تنظیم کی سرگرمیوں سے متعلق سکیورٹی شخصیات بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں