داعشی جنگجوؤں کے 1400 بیوی بچے عراقی حکام کی تحویل میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

عراق میں سکیورٹی ذمے داران اور امدادی کارکنان نے تصدیق کی ہے کہ عراقی حکام نے داعش تنظیم کے مبینہ ارکان کی غیر ملکی بیویوں اور بچوں کو حراست میں رکھا ہوا ہے جن کی تعداد 1400 کے قریب ہے۔ یہ تحویل عراقی فورسز کی جانب سے تنظیم کو اس کے ایک آخری گڑھ سے نکالے جانے کے بعد عمل میں آئی ہے۔

عراقی فوج اور اںٹیلی جنس کے افسران نے انکشاف کیا ہے کہ ان میں سے اکثر خواتین ترکی ، تاجکستان ، آذربائیجان اور روس سے آئی ہوئی ہیں۔ ان کے علاوہ ایشیائی خواتین اور قلیل تعداد میں فرانس اور جرمنی سے آئی خواتین بھی موجود ہیں۔
عراقی حکام نے خواتین اور بچوں کو موصل کے جنوب میں ایک عراقی عسکری کیمپ میں رکھا ہوا ہے۔ ایک انٹیلی جنس افسر نے واضح کیا کہ حکام ان خواتین کی شہریتوں کی تصدیق کرنے پر کام کر رہے ہیں بالخصوص جب کہ بہت سی خواتین کے پاس ان کے اصلی دستاویزات نہیں ہیں۔

ادھر ایک امدادی اہل کار نے بتایا کہ گزشتہ سال موصل اور دیگر علاقوں سے داعش کو نکالنے کا آغاز کیے جانے کے بعد داعش تنظیم سے تعلق رکھنے والا یہ سب سے بڑا گروپ ہے جو عراقی حکام کی حراست میں موجود ہے۔

نینوی صوبے میں آپریشن کمان میں شامل کرنل احمد الطائی کا کہنا ہے کہ "داعش کے گھرانوں کو سخت حفاظتی انتظامات کے ساتھ رکھا گیا ہے اور ان کے ساتھ نمٹنے کے حوالے سے اب حکومت کے احکامات کا انتطار ہے"۔ الطائی کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران ان خواتین نے واضح کیا کہ تنظیم کے پروپیگنڈے نے ان کو گمراہ کر دیا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی کے صحافیوں نے ان بچوں اور خواتین کو خیموں میں بنا کسی ایئرکنڈیشننگ نظام کے گدّوں پر بیٹھا ہوا دیکھا ہے جن پر کیڑے موجود تھے۔ امدادی اہل کاروں نے اس خیمے کو "عسکری ٹھکانہ" قرار دیا۔

ایک نقاب پوش چیچن خاتون نے فرانسیسی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "میں واپس فرانس جانا چاہتی ہوں مگر یہ نہیں جانتی کہ یہ کس طرح ہو گا"۔ خاتون نے واضح کیا کہ وہ اس سے قبل پیرس میں رہتی تھی۔ خاتون کو یہ بھی معلوم نہیں کہ داعش میں شمولیت کے بعد اس کو عراق لے کر آنے والے شوہر کا کیا انجام ہوا۔

اسی سیاق میں وزارت داخلہ کے ایک ذمے دار نے بتایا ہے کہ عراق ان خواتین اور بچوں کی واپسی کے لیے ان کے متعلقہ سفارت خانوں کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔ ذمے دار کے مطابق اس بڑی تعداد کو طویل عرصے تک تحویل میں رکھنا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔

دوسری جانب عراقی فوج کے ایک افسر نے انکشاف کیا ہے کہ حکام اب تک کم از کم 13 ملکوں کی شہریت شمار کر چکے ہیں۔

امدادی اہل کاروں اور حکام نے اپنے گھروں سے محروم ہونے والے عراقیوں اور غیر ملکیوں کے درمیان تناؤ پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مذکورہ عراقی بھی اسی کیمپ میں موجود ہیں۔ عراقی فوجی انٹیلی جنس کے ایک افسر نے بتایا کہ اسیر افراد کی سلامتی کے واسطے ان کو کیمپ میں ایک جانب رکھا گیا ہے۔

پناہ گزینوں سے متعلق ناروے کی کونسل جو 541 بچوں اور خواتین کو سپورٹ کر رہی ہے ، اس کا کہنا ہے کہ عراق کو چاہیے کہ ان افراد کے حوالے سے مستقبل کی منصوبہ بندی واضح کرنے کے لیے جلد حرکت میں آئے۔ تاہم مغربی ذمے داران داعش کے ڈھیر ہو جانے کے بعد شدت پسند جنجگوؤں اور ان کے متعلقین کی وطن واپسی کے حوالے سے تشویش کا شکار ہیں۔ فرانسیسی ذمے داران کے مطابق اس بات کی ہدایات دی گئی ہیں کہ جن فرانسیسیوں کا عراق میں داعش تنظیم سے تعلق ثابت ہو جائے ان کے خلاف عدالتی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کیمپ میں شدید گرمی کے باوجود ان خواتین میں اکثریت نے سیاہ برقعے اور نقاب پہنے ہوئے تھے۔

ایک 27 سالہ الجزائری نژاد فرانسیسی خاتون نے بتایا کہ اس کا شوہر دھوکے سے اس کو گزشتہ برس ترکی کے راستے پہلے شام اور پھر عراق لے آیا تا کہ داعش تنظیم میں شمولیت اختیار کر سکے۔ خاتون نے بتایا کہ اس کی گود میں موجود شیر خوار بچی نے تین ماہ قبل جنم لیا۔ خاتون کا شوہر اسے ترکی میں ایک ہفتے کی چھٹی گزارنے کا خواب دکھا کر گھر سے نکلا تھا۔ خاتون کے مطابق اس کا پانچ برس کا بیٹا رواں سال جون میں سڑک پر کھیلتے ہوئے میزائل حملے میں جاں بحق ہو گیا تھا جب کہ اس کا شوہر موصل میں معرکہ آرائی کے دوران مارا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں