’موصل میں 30 داعشی خواتین نے خود کو دھماکے سے اڑایا‘

ایران اور حزب اللہ کی داعش کے ساتھ ڈیل عراق کی توہین ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کی انسداد دہشت گردی فورس کے ترجمان نے انکشاف کیا ہے کہ اکتوبر سنہ 2016ء میں موصل شہر میں داعش کے خلاف شروع ہونے والے آپریشن میں کم سے کم 30 داعشی خواتین خود کش بمباروں نے خود کو دھماکوں سے اڑا دیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انسداد دہشت گردی فورس کے ترجمان صباح النعمان نے بتایا کہ داعش کے خلاف جاری آپریشن میں سیکیورٹی فورسز نے داعشی خواتین بمباروں کو زندہ گرفتار کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ مگر اس کے باوجود فورسز صرف دو خواتین بمباروں کو خود کش حملوں سے روکنے میں کامیاب ہوسکیں۔ اس دوران کم سے کم تیس خواتین بمباروں نے خود کو دھماکوں سے اڑا دیا۔

صباح نعمان کا مزید کہنا تھا کہ موصل میں آپریشن کے دوران مجموعی طور پر داعش کی کل 12 خواتین کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں خلیجی ملکوں کی کوئی خاتون شامل نہیں تاہم گرفتار کی گئی داعشی عورتوں میں چیچنیا، ایران، مراکش اور تیونس کی خواتین شامل تھیں۔ گرفتار کی گئی تمام خواتین کے خلاف عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے۔

خیال رہے کہ موصل اور عراق کے دوسرے شہروں میں داعش کو لگنے والی کاری ضرب کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس کی سرگرمیوں پر کافی اثر پڑا ہے۔ داعش کے خواتین بریگیڈ’ کتیبہ الخنساء‘ کی سوشل میڈیا پر جاری پروپیگنڈہ اور دہشت گردوں کی بھرتی مہم میں کمی دیکھی گئی۔

عراقی انسداد دہشت گردی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ لبنان کی سرحد پر شام کے علاقے میں حزب اللہ اور ایران کی جانب سے داعش کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی جو ڈیل کی ہے اس میں داعش کی خود کش خواتین بمبار بھی ہوسکتی ہیں۔ حزب اللہ اور ایران نے داعش کے جن 600 جنگجوؤں کو محفوظ راستہ مہیا کیا ان میں داعش کی خود کش حملہ آوروں کی موجودگی کا قوی امکان موجود ہے۔

صباح النعمان نے حزب اللہ اور ایران کی جانب سے داعش کے ساتھ ڈیل کو عراق کی توہین قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بغداد اس وقت داعش سے مکمل نجات کے لیے تمام وسائل استعمال کررہا ہے جب کہ حزب اللہ اور ایران داعشی دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے بجائے انہیں محفوظ راستے مہیا کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں