.

اسرائیلی کارروائیوں پر دمشق کی خاموشی، روس تل ابیب دوستی پکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشرق وسطی کے امور میں کام کرنے والے روس کے ایک اعلی اہل کار نے اسرائیل کو مطمئن کرنے کا پیغام نشر کیا ہے۔ مذکورہ اہل کار نے عبرانی زبان کے اخبار "یدیعوت احرونوت" سے گفتگو میں کہا ہے کہ "اگر ایران اور حزب اللہ نے شام میں حد سے زیادہ مداخلت کی تو ہم اُن کے پَر کاٹ دیں گے"۔

اہل کار نے مزید کہا کہ " ہم اسرائیل کے اندیشوں سے واقف ہیں۔ پیوتن اور نیتنیاہو کے درمیان آخری ملاقات میں ان امور کی وضاحت کر دی گئی تھی"۔

روسی اور اسرائیلی ملاقاتوں کے دوران نیتنیاہو اور موساد کے سربراہ یوسی کوہین کا یہ خیال تھا کہ ایران کے پاس شام کے اندر اپنا کنٹرول گہرا بنانے کے لیے ایک منصوبہ ہے۔ اس سلسلے میں پاسداران انقلاب اور اس کی مددگار شیعہ ملیشیاؤں کا مستقل وجود بھی ہے۔ یہ ملیشیائیں پاکستان، افغانستان اور عراق سے آئی ہوئی ہیں۔

اسرائیلیوں کی جانب سے پیوتن کو پیش کی جانے والی انٹیلی جنس معلومات کے مطابق ایران طرطوس میں ایک بندرگاہ بنا رہا ہے اور لبنان میں میزائل تیار کرنے والے کارخانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

نیتنیاہو اور کوہین نے پیوتن کو آگاہ کر دیا کہ "ایران کے طویل المیعاد منصوبوں میں روس شامل نہیں ہے اور ایران آپ لوگوں کو بھی وہاں سے نکالنے کی کوشش کرے گا"۔

روسی اعلی اہل کار نے اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون کو سراہا جس میں شام میں حمیمیم کے ہوائی اڈے سے تل ابیب میں اسرائیلی فوج کے ہیڈ کوارٹر تک ٹیلیفون لائن شامل ہے۔ یہ لائن دو برس قبل فعال کی گئی جس کے ذریعے جانبین کے اعلی افسران مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔

گزشتہ ماہ سُوشی میں پیوتن اور نیتنیاہو کی ملاقات کے بعد اسرائیلی اخبارات میں جو کچھ شائع ہوا اس پر تبصرہ کرتے ہوئے روسی صدر کے ترجمان دمیتری بیسکوف کا کہنا ہے کہ " نہیں ، سُوشی میں روسی اسرائیلی بات چیت کے اس طرح کے تجزیے درست نہیں ہیں.. بلکہ بات چیت کی نوعیت یکسر مختلف رہی"۔

ادھر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے رواں ماہ کی ابتدا میں اعلان کیا تھا کہ ماسکو نے سُوشی میں صدر ولادیمر پیوتن اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان ملاقات میں باور کرا دیا تھا کہ وہ اسرائیل کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہے۔ لاؤروف نے زور دے کر کہا کہ اس ملاقات کے ناکام ہونے کے حوالے سے تمام تر دعوے بے بنیاد ہیں۔ لاؤروف نے قطری وزیر خارجہ کے ساتھ بات چیت کے دوران اعلان کیا تھا کہ ماسکو کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہیں کہ مشرق وسطی میں کوئی بھی ملک اسرائیل پر حملہ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

یاد رہے کہ ماسکو اور تل ابیب ستمبر 2015 میں شام میں عسکری تعاون سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ روسی اور اسرائیلی ہوا بازوں نے اس معاہدے کے طے پانے کے چند ہی ہفتوں بعد شام کی فضاؤں میں ہوا بازی کو محفوظ بنانے کے لیے مشترکہ مشقوں کا آغاز کیا۔

صدر پیوتن نے اسرائیل کو یقین دہانی کرائی تھی کہ شام تل ابیب کے خلاف جنگ نہیں چھیڑے گا۔

یہ بات سب کو معلوم ہے کہ اسرائیل نے شام میں حزب اللہ اور بشار حکومت کی فوج کے ٹھکانوں پر درجنوں فضائی حملے کیے ہیں۔ ان میں آخری حملہ اپریل 2017 میں کیا گیا جب اسرائیلی وزیر دفاع لیبرمین ماسکو کے دورے پر گئے ہوئے تھے۔