.

اِدلب کے بدلے جنوبی دمشق؛ ترکی اور ایران کے بیچ سمجھوتے کی خبریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسے وقت میں جب کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لافروف نے عَمّان میں اپنے اردنی ہم منصب ایمن الصفدی کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں "شام کے جنوب مشرق میں سیف زون قائم کرنے سے متعلق حالات پر بات چیت" کی نوید سنائی ہے، تو دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ ماسکو کی سرپرستی میں انقرہ اور تہران کے درمیان ایک سمجھوتہ طے پانے والا ہے جس کے تحت دمشق کے جنوب میں ایرانی کنٹرول کے مقابل اِدلب میں عسکری وجود کو بدل دیا جائے گا۔ عربی روزنامے الشرق الاوسط کے مطابق اس کا مطلب یہ ہوا کہ دمشق میں سیاسی فیصلے پر مستقل طور پر اثر انداز ہونے کے لیے ایک بلاک فراہم کیا جا رہا ہے۔

اخباری رپورٹوں کے مطابق ترکی نے اس سے پہلے اِدلب کے لیے "شہری" انتظامیہ ہونے کی تجویز دی تھی۔ روس بھی کافی عرصے سے اِدلب کو سیف زونز کی اُس فہرست میں شامل کرنے کے لیے کوشش کرتا رہا جن پر آستانہ بات چیت میں اتفاق رائے ہوا تھا۔

نئے سمجھوتے کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کا فیصلہ آئندہ جمعرات اور جمعے کو آساتانہ میں ہونے والے اجلاس میں کیا جائے گا۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماسکو نے دمشق پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ شام کے شمال میں ترکی کے فوجی وجود کو قبول کرے۔

علاوہ ازیں رواں ماہ 25 سے 27 تاریخ تک عَمّان میں روس ، امریکا اور اردن کا اجلاس منعقد ہوگا تا کہ ستمبر کے آخر میں "نصیب" کی سرحدی گزر گاہ کو کھولا جائے اور درعا - دمشق - بيروت راستہ پھر سے فعّال بنایا جائے۔

ماسکو درعا میں جنگ بندی کی توسیع کے لیے کوشاں ہے جہاں وہ دیہی علاقے میں جیشِ حُر کو داعش اور النصرہ محاذ کے خلاف لڑنے کے مقابل فضائی تحفظ فراہم کر رہا ہے۔