روس نے داعش کی مالی رقوم کی اسمگلنگ کی تصدیق کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق اور شام میں داعش کے خلاف گھیرا تنگ ہونے کے ساتھ ایسا نظر آتا ہے کہ تنظیم مغربی ممالک میں تخریب کاری کی منصوبہ بندی کے علاوہ اپنی مالی رقوم کو اسمگل کرنے کے راستے تلاش کر رہی ہے۔

روسی وزارت خارجہ میں چیلنجوں اور نئے خطرات کے شعبے کے نائب سربراہ دیمیتری فیوکتستوف نے منگل کو روم میں ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ داعش نے متوقع قریبی ہزیمت کے پیش نظر مالی رقوم کو اپنے زیر قبضہ علاقوں سے غیر ممالک بالخصوص یورپ منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تنظیم ان رقوم کو اپنے غیر فعّال سیلوں کی فنڈنگ میں استعمال کرے گی تا کہ وہ خونی نوعیت کے حملے کر سکیں۔

اسی ذریعے کے مطابق داعش تنظیم شام میں تیل کی تجارت میں درپیش خسارے کی تلافی کے واسطے آمدنی کے نئے ذرائع تلاش کرتے ہوئے غیر ملکی کرنسی کے لین دین کے علاوہ آثاریاتی نوادارات اور منشیات کی اسمگلنگ کی سرگرمیوں کا سہارا لے رہی ہے۔

یاد رہے کہ بعض رپورٹوں کے مطابق داعش تنظیم اپنے قبضے میں موجود تیل کے کنوؤں میں سے تقریبا 90% سے ہاتھ دھو چکی ہے۔

مذکورہ روسی ذمے دار کے مطابق داعش نے فنڈنگ کے اضافی ذرائع کی تلاش کرتے ہوئے اپنے زیر قبضہ تمام اراضی پر سختی کے ساتھ اپنی کرنسی کو لاگو کر رکھا ہے۔ دیمیتری کا کہنا ہے کہ "درحقیقت تنظیم نے یہ اعلان کیا ہے کہ اس کے سونے کے دینار ، چاند کے درہم اور کانسی کے نوٹ ہی وہ واحد کرنسی ہیں جس میں تنظیم کے زیر قبضہ علاقوں میں لین دین کی اجازت ہے"۔

داعش نے مقامی آبادی کو پابند کیا ہے کہ وہ شامی لیرا اور امریکی ڈالروں کو تنظیم کی کرنسی سے تبدیل کروائیں۔ یہ کرنسی تنظیم کے دفاتر میں سونے کی قیمت سے بھی زیادہ نرخوں میں فروخت کی جا رہی ہے۔

روسی ذمے دار نے انکشاف کیا کہ داعش اس طریقہ کار کے ذریعے فی دینار 180 ڈالر سے زیادہ کے نرخ پر 1 لاکھ دینار سے زیادہ فروخت کر چکی ہے۔ اس طرح اسے تقریبا 1.8 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی آمدنی ہوئی جو یقینا ہتھیاروں اور گولہ بارود خریدنے پر خرچ ہو سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں