شامی فوج دیر الزور شہر میں داعش کا گھیرا تنگ کرنے کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی فوج مشرقی شہر دیر الزور میں داعش کی ناکا بندی توڑنے کے بعد اب ان کے زیر قبضہ رہ جانے والے علاقوں کا گھیراؤ تنگ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

شامی فوج اور اس کے اتحادی جنگجوؤں نے گذشتہ ہفتے دیر الزور شہر میں داعش کا گذشتہ چند سال سے جاری محاصرہ ختم کر دیا تھا اور وہ شہر میں حکومت کے زیر انتظام دو علاقوں میں داخل ہو گئے تھے۔

اس کے بعد سے داعش کے خلاف اس محاذ پر لڑائی کے لیے فوج کی کمک کی آمد کا سلسلہ جاری ہے تاکہ داعش کو دریائے فرات کے کنارے کے ساتھ واقع دیر الزور کے علاقوں سے نکالا جاسکے۔

عراق کے ایک سکیورٹی ذریعے نے بتایا ہے کہ فوج داعش کا تین اطراف سے گھیراؤ کررہی ہے اور اس مقصد کے لیے وہ پہلے فرات کے مغربی کنارے پر کنٹرول کو مضبوط بنا رہی ہے۔اسدی فوج کی اس کارروائی کا مقصد داعش کو دیر الزور شہر اور صوبے سے مکمل طور پر نکال باہر کرنا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بھی دیر الزور شہر میں اسدی فوج اور داعش کے درمیان گذشتہ دو روز سے شدید لڑائی کی اطلاع دی ہے۔

انھوں نے کہا کہ شامی فوج فرات کے مغربی کنارے تک پہنچنے کے لیے کوشاں ہے۔اگر اس کا الجفرا گاؤں پر قبضہ ہوجاتا ہے تو وہ تین اطراف سے داعش کا محاصرہ کر نے میں کامیاب ہوجائے گی اور جنگجوؤں کے لیے کوئی راہ فرار نہیں بچے گی۔ وہ صرف دریا کی طرف سے ہی کہیں بھاگ کر جاسکیں گے لیکن وہاں وہ شامی فوج کے توپ خانے اور روسی طیاروں کے فضائی حملوں کی زد میں ہوں گے۔

شہر کے مشرق کی سمت امریکا کے حمایت یافتہ کرد اور عرب جنگجوؤں پر مشتمل شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) داعش کے خلاف الگ سے کارروائی کررہی ہیں اور وہ اس مشرقی سمت سے داعش کا گھیراؤ کررہی ہیں ۔تاہم ایس ڈی ایف کا کہنا ہے کہ اس کا داعش مخالف اس لڑائی میں اسد رجیم سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔

دیر الزور میں امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد اور روسی فوج کے لڑاکا طیارے تباہ کن فضائی حملے کررہے ہیں اور ان میں اب تک دسیوں شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ شامی رصدگاہ کے مطابق بدھ کو ایک فضائی حملے بارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور منگل کو پینتیس افراد مارے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں