شام: دیر الزور کی گورننگ کونسل کا ایرانی مداخلت پر انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

شام کی دیر الزور گورنری کی گورننگ کونسل کی جانب سے شہر میں ایرانی مداخلت اور خطے میں اس کے بڑھتے اثرو نفوذ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایرانی مداخلت سے دیر الزور کی عرب آبادی پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

’العربیہ‘ کے مطابق دیر الزور گورننگ کونسل کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شامی رجیم کی جانب سے دیر الزور میں ایرانی ملیشیاؤں کو کھلے عام سرگرمیوں کی اجازت دی گی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر ایرانی ملیشیا اور اسد رجیم داعش کے خلاف لڑنے کا دعویٰ کرتے ہیں تو مقامی آبادی بھی مسلسل داعش کے خلاف لڑائی جاری رکھے ہوئے ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ داعش کے خلاف لڑائی کی آڑ میں ایرانی ملیشیاؤں کو دیر الزور میں پاؤں جمانے کا موقع دینے سے علاقے میں نئی سیاسی اور نسل کشمکش شروع ہوسکتی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دیر الزور کی بیشتر آبادی اہل سنت مسلک کے عرب باشندوں پر مشتمل ہے جب کہ ایرانی ملیشیائیں اپنے مخصوص مقاصد کے تحت دیر الزور میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ ایران کے بڑھتے اثرو رسوخ کے دیر الزور کی سنی عرب آبادی کو طویل المدتی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں