.

یمن: حضرموت میں القاعدہ سے نمٹنے کے لیے عسکری کمیٹی کی تشکیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی حکومت نے ملک کے مشرقی صوبے حضرموت میں القاعدہ تنظیم اور دہشت گرد سیلوں کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک عسکری سکیورٹی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔

کمیٹی میں دو صوبوں حضرموت اور شبوہ کے گورنر ، فرسٹ ملٹری ایریا کا کمانڈر اور چیف آف اسٹاف کا نائب اور وزیر داخلہ کا نائب شامل ہیں۔

یمنی وزیر اعظم احمد عبید بن دغر نے منگل کی شام المکلا میں ملٹری سکیورٹی قیادت کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ حضرموت میں ترقی اور شہریوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سکیورٹی ، عسکری ، سیاسی اور شہری نوعیت کی کوششیں ناگزیر ہیں۔

یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کے لیے قائم عرب اتحاد اپریل 2016 میں ایک عسکری آپریشن کے ذریعے حضرموت سے القاعدہ تنظیم کو نکال دینے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ صوبے پر تنظیم کے ایک سال کے قبضے کے بعد آزاد کرا لیا گیا۔ تاہم القاعدہ کی بعض دہشت گرد ٹولیاں ان دنوں صوبے میں مخصوص مقامات پر سرگرم ہیں اور حکومت ان پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہے۔

زیراعظم بن دغر نے زور دیا کہ شدت پسند نظریات کے خلاف لڑ کر انہیں جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔ انہوں نے حوثی ملیشیا اور معزول صالح سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ روکنے کے لیے کام کریں۔

بن دغر نے حوثی ملیشیا کی جانب سے یمنی عوام پر ایرانی ولایتِ فقیہ کے نظریات مسلط کرنے یا بصورت دیگر انہیں قتل کرنے کی کوششوں کو ایک بڑا خطرہ قرار دیا۔