"نہ دہشت گرد نہ پناہ گزین بلکہ صرف بچّے "!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جس وقت یہ سطور لکھی جا رہی ہیں عین اسی دوران دنیا بھر میں پناہ گزین بچوں کی تعداد 5 کروڑ تک پہنچ گئی ہے جو اپنے گھروں ، خاندانوں اور ماحول سے محروم ہو چکے ہیں۔ دنیا میں 5 کروڑ بچے ٹھکانہ کھو دینے یا ہجرت کرنے یا پھر نقل مکانی کے تجربے سے گزر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے بچوں نے پانی میں ڈوب کر موت کا سفر بھی کر لیا !

ہمارے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم کسی پناہ گزین بچے کی آنکھوں میں جھانکیں اور ہمیں ان میں "خوف" یا "وبائی بیماری" یا "اندیشہ" نظر نہ آئے... یہ وہ پیغام ہے جو بچوں کے لیے اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسف نے دو روز قبل ایک "مختصر فلم" کے ذریعے جاری کیا۔ اس فلم کا مقصد رواداری کی سوچ کو پروان چڑھانا اور ان ناتواں پھولوں کے واسطے اس سوچ کو قبول کرنا ہے۔

پناہ گزینوں بالخصوص بچوں کا یہ سفر کبھی بھی "پھولوں کی سیج" نہ ثابت ہوا ہے اور نہ کبھی ہو گا۔ یہ لوگ اپنے گھروں سے نکالے گئے ، ان میں بعض کو اس کی ماں یا باپ کے سینے سے الگ کیا گیا اور بعض سرحدوں کے درمیان تنہا بے گھر ہوئے۔

موت سے فرار اختیار کرنے والے یہ بچے مکمل زندگی کے مستحق ہیں۔ انہیں خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے کیوں کہ یہ جس کرب سے گزرے ہیں ، جس خوف سے دوچار ہوئے ہیں اور ہر لمحہ جس محرومی کا شکار ہوئے ہیں اس کا تصوّر بھی ممکن نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسف کی جانب سے اتوار کے روز جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں ہر 5 میں سے 1 بچے کو فوری طور پر انسانی امداد کی ضرورت ہے.. اور ان میں 90% سے زیادہ بچے تنازعات اور جنگوں سے متاثرہ ممالک میں رہتے ہیں۔

اس طرح ابھی تک تنازعات بڑی آسانی کے ساتھ کروڑوں بچے اور بچیوں سے ان کا بچپن چھین رہے ہیں۔ بالخصوص مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے خطے میں "تنازعات کا شکار" ان بچوں نے ایسے پُرتشدد حالات دیکھے ہیں جن کی مثال نہیں ملتی !

ایک اندازے کے مطابق صرف شام میں محصور علاقوں یا ان علاقوں میں جہاں پہنچنا دشوار ہے رہنے والے بچوں کی تعداد بیس لاکھ کے قریب ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران ان تک محدود امداد ہی پہنچ سکی ہے۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں