.

حوثی خواتین کی اسلحے کی تربیت کے لیے ایران، عراق اور لبنان کی خواتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی معزول صدر علی عبداللہ صالح کے ہمنوا تحلیل شدہ ریپبلکن گارڈز کے ایک افسر نے انکشاف کیا ہے کہ حوثی ملیشیائیں خفیہ طور پر خواتین کو تربیت دینے کی وسیع کارروائی میں مصروف ہیں جس کا مقصد ان خواتین کو ہتھیاروں کے استعمال اور لڑائی میں مہارت حاصل کرنے کے لیے تیار کرنا ہے۔

مذکورہ افسر کے مطابق ان خواتین کو ایران ، عراق ، لبنان اور شام سے تعلق رکھنے والی ماہر خواتین تربیت دے رہی ہیں۔ تربیت کار خواتین کو حوثی ملیشیا 2014 میں ایرانی فضائی کمپنی کے ذریعے مختلف طریقوں سے یمن لے کر آئی تھی۔

یہ تمام تر انکشافات یمنی ویب سائٹ "العاصمہ آن لائن" پر جاری رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔ ویب سائٹ نے افسر کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس کے حوالے سے بتایا کہ تقریبا 500 یمنی لڑکیوں کو دارالحکومت صنعاء میں ایران اور عراق کی خواتین تربیت کاروں کے ہاتھوں خفیہ طور پر بھرتی کیا گیا۔ افسر کا کہنا ہے کہ صنعاء کے جنوب میں واقع ذمار صوبہ حوثیوں کی خواتین کو بھرتی کرنے کا سب سے بڑا عسکری کیمپ شمار ہوتا ہے۔

افسر نے مزید بتایا کہ ان لڑکیوں اور اسکول کی طالبات کو مختلف عوامل کی بنیاد پر تربیت کے واسطے لیا جاتا ہے۔ ان عوامل میں طاقت کا زور یا لڑکیوں کے والدوں کو قتل کی دھمکی یا پھر ان کے گھر والوں کی غربت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کو مال کی لالچ شامل ہوتی ہے۔

ریپبلکن گارڈز کے افسر نے باور کرایا کہ درالحکومت صنعاء میں حوثیوں کی خواتین کے لیے ایک بڑا مرکز ہے۔ یہاں مختلف کورسز کرائے جاتے ہیں اور خواتین ، لڑکیوں اور اسکولوں اور یونی ورسٹی طالبات کو جال میں پھانسا جاتا ہے۔ حوثی عناصر سرکاری مساجد اور اسکولوں کو خواتین کے لیے تربیت کے میدان کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یہاں ان کو ہلکے اور درمیانے ہتھیاروں کے استعمال اور عسکری ٹیموں کی قیادت کی تربیت دی جاتی ہے۔

افسر کے مطابق اس مرکز کی نگرانی حوثی جماعت کے سرغنے عبدالملک الحوثی کی ایک رشتے دار خاتون نے سنبھالی ہوئی ہے۔ حوثی ملیشیا ان لڑکیوں کی تربیت مکمل ہونے کے بعد انہیں ٹیموں کی شکل دے کر جنرل پیپلز کانگریس پارٹی کے رہ نماؤں کے گھروں پر چھاپوں کے واسطے استعمال کرتی ہے۔ اس پارٹی کے سربراہ معزول صدر علی عبداللہ صالح ہیں۔ اسی طرح حوثیوں کے مخالفین کے گھروں پر بھی دھاوؤں میں بھی ان ہی لڑکویں کو استعمال کیا جاتا ہے۔

حوثیوں کی بھرتی کردہ لڑکیوں کے ایک قریبی عزیز نے بتایا کہ خواتین کی بھرتی کا مقصد ان کو محاذوں پر بھیجنا نہیں بلکہ خصوصی ٹیمیں تشکیل دینا ہے تا کہ بعض گھروں پر چھاپوں اور سرگرمیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی کارروائی کم سے کم پیچیدگی طریقے سے مکمل کی جا سکے۔

1