یمن : معزول صدر صالح کو جیل جانے کی پہلی سرکاری دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمنی دارالحکومت صنعاء میں باغی حوثیوں کے زیر کنٹرول انسداد بدعنوانی کمیٹی نے معزول صدر علی عبداللہ صالح سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے مالی اثاثوں کی تفصیلات پیش کریں تا کہ اُن املاک اور مالی رقوم کے حجم کا انکشاف ہو سکے جو انہوں نے اپنے 33 سالہ دور اقتدار میں قبضے میں کیں۔

کمیٹی نے اپنے خط میں معزول صدر کو دھمکی دی ہے کہ مالی اثاثے ظاہر نہ کرنے کی صورت میں انہیں جیل جانا پڑے گا۔

یہ حوثیوں کی جانب سے بغاوت میں اپنے حلیف صالح کے خلاف نیا اقدام ہے۔

سرکاری طور پر بھیجے گئے خط میں جس پر 11 ستمبر کی تاریخ موجود ہے کہا گیا ہے کہ معزول صالح نے ہی 2006 میں مالی اثاثوں کے اعلان سے متعلق قانون جاری کیا تھا جب وہ اقتدار میں موجود تھے۔ لہذا اس قانون پر عمل نہ کرنے کی صورت میں ان کو سزا کا سامنا ہوگا۔

گزشتہ ماہ اگست میں علی عبداللہ صالح کے ساتھ اختلاف پھوٹ پڑنے کے بعد سے حوثی قیادت کی جانب سے معزول صدر کے 33 سالہ دور اقتدار میں ان کی بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ اس دوران بیرون ملک ان کی منصوبوں ، کمپنیوں اور املاک کا انکشاف ہوا ہے جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ "عوام کی لُوٹی ہوئی رقم ہے" جس کا احتساب کیا جانا چاہیے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں علی عبداللہ صالح کی دولت کے حجم کا اندازہ 60 ارب ڈالر سے زیادہ لگایا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں