باغیوں کو چیلنج.. یمنی حکومت کا پہلا وزیر محصور شہر تعز کے اندر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن کی آئینی حکومت کے ایک وزیر نے ملک کے جنوب مغرب میں باغیوں کی طرف سے تعز کے محاصرے کو چیلنج کرتے ہوئے شہر میں داخل ہو جانے میں کامیابی حاصل کر لی۔ مذکورہ وزیر نے ہفتے کے روز شہر کی سڑکوں پر گشت کیا جس کو حوثی اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کی ملیشیاؤں کی جانب سے مسلسل شدید گولہ باری کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یمنی حکومت کے کسی بھی اعلی اہل کار کا تعز شہر میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا دورہ ہے۔

یمنی آئینی حکومت کے پانی اور ماحولیات کے وزیر العزی ہبہ اللہ شریم نے تعز کے باسیوں سے شہر کی صورت حال کے بارے میں آگاہی حاصل کی جو تین برسوں سے جاری جنگ کے نتیجے میں باغیوں کے محاصرے کا شکار ہیں۔

یمنی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یمنی وزیر شریم نے باور بتایا کہ ان کے دورے کا مقصد دوستوں ، برادران ، تنظیموں اور عطیات کنندگان کو یہ باور کرانا ہے کہ تعز شہر میں زندگی بحال ہو رہی ہے تا کہ تمام لوگ شہر کے حالات کو معمول پر لانے کے لیے فعال کردار ادا کرنے میں جلد سرگرم ہوں۔

یمنی وزیر پانی نے تعز میں ذمے داران کے ساتھ ملاقات میں ہنگامی طور پر بعض کنوؤں کو چالو حالت میں لانے کے واسطے بات چیت کی تا کہ محصور شہر کے باسیوں کو مدد مل سکے۔ اس کے علاوہ تعز کو صاف پانی کی فراہمی کے تزویراتی منصوبے پر بھی تبادلہ خیال ہوا جس پر سعودی عرب کی سپورٹ سے جلد عمل درامد شروع کر دیا جائے گا۔

یمنی وزیر کے دورے کو یمنی کارکنان اور سوشل میڈیا کے حلقوں کی جانب سے خاصی پذیرائی حاصل ہوئی۔ مذکورہ عناصر نے باور کرایا کہ یہ دورہ باغی ملیشیاؤں کو ایک بھرپور پیغام ہے کہ تعز میں شہریوں کے خلاف ان کا محاصرہ اور مسلسل قتل و غارت اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے اور بقیہ صوبے کو بھی جلد آزاد کرا لیا جائے گا۔

یاد رہے کہ باغی ملیشیا کی جانب سے تقریبا ڈھائی برسوں سے تعز شہر کا شدید محاصرہ جاری ہے اور باغیوں نے شہریوں پر سے محاصرے کو ہٹانے کے لیے تمام بین الاقوامی قراردادوں کو مسترد کر دیا ہے۔

گزشتہ برس 18 اگست کو سرکاری حکومت سعودی عرب کے زیر قیادت عسکری اتحاد کی معاونت سے شہر کی جنوبی سمت سے جزوی طور پر محاصرے کو ختم کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی اور اس نے الضباب کے راستے پر کنٹرول حاصل کر لیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں