.

خلیجی بحران قطر کی معیشت کے لیے "تباہ کن"، مہنگائی میں 4.5 فیصد اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ممالک کے بائیکاٹ کا بحران ابھی تک قطر کی معیشت پر مختلف پہلوؤں سے تباہ کن اثرات مرتب کر رہا ہے۔ رواں برس جولائی میں غذائی اشیاء اور مشروبات کی قیمتوں میں گزشتہ برس کی نسبت 4.5 فیصد ریکارڈ کیا گیا جو 2014 کے بعد سے تیز ترین اضافہ ہے۔ گزشتہ ماہ کی نسبت یہ اضافہ 4.2 فیصد رہا۔

اگست کے مہینے میں قیمتوں میں اضافہ گزشتہ برس اسی عرصے کی نسبت 2.8 فیصد زیادہ رہا۔

رواں برس 5 جون کو سعودی عرب ، امارات ، بحرین اور مصر کی جانب سے دوحہ کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے اور زمینی اور سمندری سرحدوں کی بندش کے بعد قطر میں غذائی اشیاء کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا۔

قطری سمندری کارگو کی کمپنیاں جو دبئی کو بطور جہاز بدلی کے مرکز کے طور پر استعمال کرنے سے محروم ہو چکی ہیں. اب عمان ، کویت اور برصغیر کے راستے نئی خدمات حاصل کرنے کی تگ و دو میں ہیں۔

اشیاء خور و نوش کی قطری کمپنیوں نے خلا کو پُر کرنے کے لیے اپنے کام کرنے کی سطح میں اضافہ کر دیا ہے۔

ہفتے کے روز جاری معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطر پر عائد پابندیاں ابھی تک ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کو شدید طور پر متاثر کر رہی ہیں اور سرمایہ کاری کے جذبات کو نقصان پہنچنے کے سبب دیگر عرب ممالک کے بعض سرمایہ کار اپنی پراپرٹی کو فروخت کے لیے پیش کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

اگست 2016 کے مقابلے میں رواں برس اگست میں ہاؤسنگ اینڈ یوٹیلٹی کی قیمتوں میں 4 فیصد کی کمی آئی ہے جو گزشتہ کئی برسوں میں واقع ہونے والی سب سے بڑی گراوٹ ہے۔

قطر میں گزشتہ سال اگست کے مقابلے میں مجموعی طور پر کنزیومر پرائس انڈیکس میں 0.4 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے جو کہ 2015 کے اوائل کے بعد سے پہلی مرتبہ نیچے گیا ہے۔