روس کی سیریئن ڈیموکریٹک فورسز پر بم باری کی تردید ، بین الاقوامی اتحاد کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

ماسکو نے شام کے صوبے دیر الزور میں روسی افواج کی طرف سے سیریئن ڈیموکریٹک فورسز )ایس ڈی ایف( کو بم باری کا نشانہ بنائے جانے کی تردید کی ہے۔ تاہم دوسری جانب داعش کے خلاف امریکی قیادت میں سرگرم بین الاقوامی اتحاد نے روسی بم باری اور بعض عناصر کے زخمی ہونے کی تصدیق کر دی۔

بین الاقوامی اتحاد کے آپریشن کے ترجمان کرنل ریان ڈیلن نے ہفتے کو رات گئے اپنی ٹوئیٹ میں ایک زخمی کی تصویر پوسٹ کی ہے۔ تصویر کے اوپر تحریر ہے کہ "بین الاقوامی اتحاد اور سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے زیر انتظام طبی عملہ روسی حملے کے ایک زخمی کو علاج فراہم کر رہا ہے"۔ ڈیلن نے مزید بتایا کہ "مقامی قبائل کے متعدد افراد ایس ڈی ایف میں شامل ہو کر داعش کے خلاف لڑ رہے ہیں"۔

پینٹاگون نے بھی اتوار کے روز ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ "روسی طیاروں نے ایک ٹھکانے پر حملہ کیا جس کے بارے میں روس کو معلوم تھا کہ وہاں ایس ڈی ایف کے اہل کار اور بین الاقوامی اتحاد کے مشیران موجود ہیں"۔

بین الاقوامی اتحاد نے ہفتے کے روز روسی فضائیہ پر الزام عائد کیا تھا کہ اس کے حملے کے نتیجے میں سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے جنگجو زخمی ہو گئے ہیں۔ اتحاد نے ایک بیان میں کہا کہ "روسی افواج نے شام میں دیر الزور کے نزدیک فرات کے مشرق میں ایک ہدف کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اتحاد کی شراکت دار فورسز کے متعدد عناصر زخمی ہوئے ، ان افراد کو طبی امداد فراہم کر دی گئی"۔

بیان کے مطابق حملے میں کوئی عسکری مشیر زخمی نہیں ہوا۔

بین الاقوامی اتحاد کی فورسز کے کمانڈر امریکی جنرل پال وینک کے مطابق اس بات کی حتی الامکان کوشش کی جا رہی ہے کہ مشترکہ دشمن یعنی داعش کے خلاف بر سر پیکار فورسز کے درمیان کسی بھی قسم کی جارحیت سے گریز کیا جائے۔

سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے ایک ذمے دار نے بتایا کہ روسی طیاروں نے شامی حکومت کی افواج کے ساتھ مل کر ہفتے کو صبح سویرے امریکی حمایت یافتہ ایس ڈی ایف کو نشانہ بنایا۔

دیر الزور کی عسکری کونسل کے سربراہ احمد ابو خولہ نے بتایا کہ حملے میں ایس ڈی ایف کے 8 جنگجو زخمی ہوئے۔ ان فورسز میں کرد اور عرب جماعتیں شامل ہیں جو امریکی زیر قیادت اتحاد کے ساتھ مل کر داعش تنظیم کے خلاف بر سر جنگ ہیں۔ ابو خولہ کے مطابق روسی طیاروں نے شامی حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں سے اڑان بھری اور دریائے فرات کے مشرقی کنارے پر کئی ٹھکانوں کو بم باری کا نشانہ بنایا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کہ یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ آیا شامی حکومت کی افواج نے مشرقی کنارے کی سمت دریائے فرات کو عبور کر لیا ہے یا نہیں۔ روسی فوج نے اس کی تصدیق کی ہے جب کہ ایس ڈی ایف کی جانب سے تردید کی گئی ہے۔

ادھر منظر عام پر آںے والی بعض تصاویر میں شامی فوج کے ارکان دریائے فرات کے کنارے اپنے ہتھیاروں کا رخ مقابل کنارے کی جانب کیے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ البتہ ڈی ایس ایف نے باور کرایا ہے کہ وہ کسی قیمت پر شامی حکومت کی فوج کو دریا پار کرنے نہیں دیں گے۔

دوسری جانب شامی صدر بشار الاسد کی مشیر بثینہ شعبان کا کہنا ہے کہ جو فریق بھی شامی فوج کو ملک پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے سے روکے گا ، شامی فوج اس کے خلاف لڑے گی۔ ان فریقوں میں سیریئن ڈیموکریٹک فورسز بھی شامل ہیں۔

ایسا نظر آ رہا ہے کہ آئندہ دنوں کے دوران اس جارحیت میں اضافہ ہو گا خاص طور پر دیر الزور کے مغربی علاقوں پر شامی حکومت کے کنٹرول کے بعد جو کہ امریکا اور روس کے درمیان معاہدے کے تحت عمل میں آیا ہے۔ یہ معاہدہ دریائے فرات کے مغربی کنارے پر شامی حکومت کے کنٹرول کی اجازت دیتا ہے جب کہ مشرقی کنارے کی جانب پیش قدمی سے روکتا ہے۔ اس لیے کہ مشرقی کنارہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے لیے مقرر ہے۔

تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ایسا نظر آ رہا ہے کہ ماسکو دھیرے دھیرے واشنگٹن کے ساتھ اپنی مفاہمتوں کو ختم کر رہا ہے۔ اس طرح روس کو مطلوبہ منفعتوں کا حصول یقینی بن سکتا ہے اور وہ یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ واشنگٹن داعش کے خلاف جنگ سے سروکار رکھتا ہے اور وہ تنظیم کے خلاف معرکہ آرائی میں رکاوٹ ڈالنے کا خطرہ ہر گز مول نہیں لے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں