شام میں روسی فوج کی چھتری تلے ایرانی فورسز کی کارروائیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں ایرانی پاسداران انقلاب اور دیگر ملیشیاؤں کی موجودگی اور اسدی فوج کے دفاع میں لڑنے کی خبریں روز آتی ہیں مگر اس ضمن میں ایک نئی خبر یہ آئی ہے کہ روسی فوج کی چھتری تلے ایران کی باضابطہ فوج بھی آپریشن میں شامل ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شامی فوج کی حلیف فورسز کے آپریشن کنٹرول روم کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں اعتراف کیا گیا ہے کہ شام کے دیہی علاقوں بالخصوص دیر الزور شہر میں روسی فوج کی چھتری تلے ایران فورسز بھی آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں۔

ہفتے کے روز بشارالاسد کے مقرب ٹی وی چینلوں کی جانب سے یہ خبر نشر کی گئی تھی کہ دمشق کے دیہی علاقوں، حتیٰ کہ مشرقی حمص کے بعض گرم محاذوں اور دیر الزور شہر میں اپوزیشن کے خلاف جاری کارروائیوں میں ایرانی فوج بھی شامل ہے۔ رپورٹس کے مطابق بہت سےعلاقے باغیوں سے چھڑانے میں دیگر فورسز کے ساتھ اسدی فوج کو ایرانی فوج کی معاونت بھی حاصل رہی ہے۔ ایرانی فوج کے ساتھ ساتھ حزب اللہ، الحیدریون، فاطمیون، زینبیون، روسی فوج اور سیرین پیپلز فورسز بھی معاون کا کردار ادا کررہی ہیں۔

شامی حلیف قوتوں کے آپریشن کنٹرول روم کی طرف سے یہ تصدیقی بیان شام میں ایران فورسز کی موجودگی کاایک نیا اعتراف ہے، کیونکہ اب تک ایران شام میں اپنی باضابطہ فورسز کی موجودگی کا انکار کرتا چلا آیا ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ شام میں اس کے فوجی افسران صرف مشاورتی خدمات انجام دیتے ہیں،محاذ جنگ میں ان کا کوئی کردار نہیں۔

خیال رہے کہ ایران میں جتنے بھی عسکری گروپ موجود ہیں یا دیگر عرب اور مسلمان ممالک میں ایران نواز جنگجو گروپ پائے جاتے ہیں وہ سب کسی نا کسی شکل میں شام میں بھی داخل کیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں