مصر: فوت شدہ بیوی سے مباشرت کے جواز کے فتوے پر شدید احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مصر میں جامعہ ازہر کے ایک عالم کی جانب سے جاری "انوکھے" اور غیر مانوس نوعیت کے فتوے نے ملک میں وسیع پیمانے پر تنازع اور عوامی حلقوں میں شدید غصے کی لہر پیدا کر دی ہے۔

کہانی کا آغاز اس وقت ہوا جب مصری اخبار "اليوم السابع" نے جامعہ ازہر میں تقابلِ فقہ کے پروفیسر ڈاکٹر صبری عبدالرؤوف سے ایک متنازع فتوی منسوب کیا جس میں مذکورہ اسکالر کا کہنا تھا کہ "شوہر کی اپنی فوت ہو جانے والی بیوی کے ساتھ مباشرت یا ازدواجی تعلق حلال ہے اور اس کو "زنا" شمار نہیں کیا جائے گا۔ ایسے شخص پر کوئی حد یا سزا جاری نہیں ہو گی کیوں کہ شرعی طور پر یہ عمل حرام نہیں ہے اور فوت ہونے والی عورت واقعتا اس کی بیوی ہے"۔ البتہ مذکورہ اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر صبری کا کہنا تھا کہ یہ عمل معاشرتی طور پر پسندیدہ نہیں ہے۔

اس فتوے نے مصر میں بڑے پیمانے پر ہنگامہ کھڑا کر دی اور جامعہ ازہر اور اوقاف کے علماء اس کا جواب دینے اور اس کو حرام قرار دینے کے لیے میدان میں آ گئے۔

مصری وزیر اوقاف ڈاکٹر محمد مختار جمعہ کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی ایسے فتوے جاری کیے جا چکے ہیں جن پر ان کے شدید غم و غصے کے جذبات پیدا ہوئے۔ وزیر اوقاف نے حالیہ فتوے کو "آفت" نما شے قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دین اسلام اور اس کی تعلیمات کے خلاف ایک جرم ہے اور جو کوئی بھی ایسی گھناؤنی حرکت کرے گا وہ انسانوں میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔

ادھر جامعہ ازہر نے متنازع فتوی جاری کرنے والے اسکالر کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کر لیا۔ جامعہ ازہر کے نائب سربراہ ڈاکٹر احمد حسنی نے بتایا کہ جامعہ کی طرف سے ڈاکٹر صبری عبدالرؤوف کو تحقیقات کے لیے بلایا جائے گا تا کہ ان سے معلوم کیا جا سکے کہ اس فتوے میں انہوں نے کون سی شرعی دلیل کو بنیاد بنایا ہے۔

دوسری جانب صاحبِ فتوی نے اس متنازع رائے سے اپنی براءت کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر صبری کے مطابق انہوں نے ایسی بات نہیں کہی اور ان کی بات کو سیاق سے قطع کر کے شائع کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صبری کے مطابق وہ تو ایک صحافی کے سوال کا جواب دے رہے تھے جو اس حوالے سے پوچھا گیا تھا کہ ایک عرب عالم نے فتوی جاری کیا ہے جس میں انہوں نے اس عمل کو جائز قرار دیا۔ ڈاکٹر صبری کے مطابق یہ عمل شرعا حرام ہے تاہم وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اخبار کے حوالے سے یہ فتوی سوشل میڈیا پر ان سے منسوب کر کے پھیلایا جا رہا ہے۔

اس سلسلے میں مصر کے مفتی اعظم کے مشیر شیخ مجدی عاشور نے العربيہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ڈاکٹر صبری عاشور اس فتوے سے اپنے تعلق کا انکار کرتے ہوئے یہ تصدیق کر چکے ہیں کہ انہوں نے یہ جاری نہیں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کا یقین نہیں کیا جا سکتا کہ جامعہ ازہر کے کسی عالم کی جانب سے ایسا فتوی صادر ہو جو انسانیت کے لیے کراہت کا باعث ہو اور اسلامی تعلیمات اور انسان کی فطرتِ صحیحہ اور سلیمہ کے منافی ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں