نیوکلیئر معاہدہ منسوخ کیا تو سخت جواب دیں گے : خامنہ ای کی امریکا کو دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے مرشد اعلی علی خامنہ ای نے امریکا کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے نیوکلیئر معاہدے کے حوالے سے کوئی بھی غلط قدم اٹھایا تو اس کا "سخت جواب" دیا جائے گا۔

واشنگٹن اور تہران کے بیچ اختلافات سنگین نوعیت اختیار کر چکے ہیں۔ اس کی وجوہات میں نیوکلیئر "معاہدے کی روح" پر عدم عمل درامد ، واشنگٹن کی جانب سے معاہدے سے نکل جانے کی دھمکی اور ایران کے مشتبہ ٹھکانوں اور تنصیبات کے معائنے کا مطالبہ ، تہران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے سبب نئی پابندیاں عائد کرنا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے خطے میں دہشت گردی کی سپورٹ جاری رہنا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق خامنہ ای نے تہران میں اتوار کے روز پولیس سائنسز یونی ورسٹی میں خطاب کے دوران کہا کہ " امریکیوں کی جانب سے نیوکلیئر معاہدے کے حوالے سے روزانہ کوئی برا ارادہ اور نیا شیطانی عمل سامنے آ جاتا ہے"۔

ایرانی مرشد کی یہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کہ ایرانی صدر حسن روحانی اتوار کے روز نیویارک روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 72ویں اجلاس میں شرکت کریں گے۔ روحانی کے زیر قیادت ایک وفد بھی ان کے ہمراہ ہے جس میں وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور کابینہ کے کئی ارکان شامل ہیں۔

نیویارک روانہ ہونے سے قبل روحانی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران وہ نیوکلیئر معاہدے کا معاملہ زیر بحث لائیں گے۔ انہوں واضح کیا کہ یہ معاہدہ امن و استحکام اور خطے اور دنیا کی ترقی کے واسطے ہے اور اس معاہدے کے مخالف ممالک کی تعداد دو یا تین سے زیادہ نہیں۔ روحانی کے مطابق یہ ایک مناسب موقع ہے کہ ایرانی عوام کی آواز دنیا تک پہنچائی جائے۔

اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ نے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے سربراہ کے بیان پر جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ "نیوکلیئر معاہدے اور اضافی پروٹوکول کے مشترکہ ورکنگ پروگرام کی بنیاد پر ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے ماہرین کا دورہ اُن مقامات کے دورے کے ضمن میں ہوگا جہاں ایران اپنی جوہری سرگرمیاں انجام دے رہا ہے۔ البتہ اس حوالے سے کوئی بھی دورہ ہمارے ملک کے راز جاننے کا ذریعہ نہیں بن سکتا"۔

واضح رہے کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے سربراہ یوکیا امانو یہ اعلان کر چکے ہیں کہ "ممکنہ خفیہ جوہری سرگرمیوں کا شبہہ ہونے کی صورت میں ایجنسی ہر جگہ پہنچنے کا حق رکھتی ہے خواہ وہ عسکری نوعیت کی ہو یا شہری"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں