کردستان ریفرنڈم غیر آئینی ہے ، کوئی سنجیدہ نتیجہ نہیں نکلے گا : حیدر العبادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراقی وزیراعظم نے عندیہ دیا ہے کہ اگر اربیل حکومت نے ریفرنڈم کے نتائج مسلط کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا اور ریفرنڈم کے نتائج سے پھیلنے والی انارکی سے بقیہ قومیتوں کو نقصان پہنچا تو کردستان ریجن کے خلاف عسکری مداخلت عمل میں آئے گی۔

العبادی نے خود مختاری کے حوالے سے منعقد کیے جانے والے ریفرنڈم کو غیر آئینی قرار دیا۔

عراقی وزیر اعظم نے باور کرایا کہ بغداد اس ریفرنڈم کے نتائج کو ہر گز قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ "ہمارا موقف یہ ہے کہ یہ غیر آئینی اور غیر قانونی فیصلہ ہے.. ریفرنڈم کے نتیجے میں کوئی ایسی چیز نہ ہو گی جس کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ یہ ریفرنڈم واضح طور پر آئین کی خلاف ورزی ہے۔ علاوہ ازیں خود کُردوں میں اس حوالے سے اختلاف پایا جا رہا ہے۔ میرے نزدیک یہ ایک بُری بلکہ انتہائی بُری حرکت ہے"۔

دوسری جانب اقوام متحدہ نے کردستان کے صدر مسعود بارزانی کو ایک تجویز پیش کی ہے جس کے تحت 25 ستمبر کو مقررہ آئندہ ریفرنڈم روک دیا جائے تو اس کے مقابل 3 سال کے اندر ایک معاہدے تک پہنچنے میں مدد کی جائے گی۔

تجویز میں بغداد اور اربیل حکومتوں سے تقاضہ کیا گیا ہے کہ باقاعدگی کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات شروع کیے جائیں۔ اقوام متحدہ کی دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جانبین پر لازم ہے کہ وہ اپنے مذاکرات ایک سے تین سال کے اندر مکمل کر لیں۔

دستاویز کے مطابق فریقین اقوام متحدہ سے مدد طلب کر سکتے ہیں تا کہ وہ مذاکرات کے عمل میں یا بات چیت کے نتائج کو نافذ العمل کرنے کے سلسلے میں اپنی مساعی پیش کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں