.

’سعودیہ کی حج پالیسی ایران اور قطر کے لیے سبق ہے‘

شاہ سلمان نے حقیقی خادم الحرمین کا حق ادا کیا:ایرانی سفارت کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک منحرف سفارت کار حسین علی زادہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے حج کو سیاسی رنگ دینے سے روکنے کے ساتھ قطر اور ایران کے شہریوں کو فریضہ حج کی ادائی کا حق دے کر تہران اور دوحہ کو سبق سکھایا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سنہ 2009ء میں ایران میں شروع ہونے والی سبز انقلاب تحریک کے بعد منحرف ہونے والے سفارت کار علی زادہ نے کہا کہ ایران اور قطر کے حجاج کرام کو پروٹوکول ، عزت اور ہرممکن تحفظ دے کر سعودی فرمانروا نے حقیقی معنوں میں خادم الحرمین کے لقب کا حق ادا کیا ہے۔

ایرانی اپوزیشن کے ترجمان ’در ٹی وی‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے سعودی عرب سے تعلقات کی بحالی کے لیے رواں سال 86500 ایرانی حج پر حجاز مقدس بھیجے مگر سعودی عرب نے حج موسم کے اختتام پر ایک بیان میں کہا کہ ایران سے تعلقات کی بحالی کا مطلب مذاق ہوگا۔ سعودی فرمانروا نے تعلقات میں کشیدگی کے باوجود ایران اور قطر کے حجاج کو حج کی اجازت دے کر حقیقی معنوں میں خادم الحرمین الشریفین ہونے کا حق ادا کیا۔

ایران شہریوں کو حج پربھیجنے پرکیوں مجبور ہوا

سفارت کار حسین علی زادہ نے انٹرویو میں کہا کہ گذشتہ برس ایرانی حکومت نے اپنے شہریوں پر حج پر جانے سے روک دیا تھا مگر رواں سال انہیں حج کی اجازت دینے کے تین بنیادی اسباب ہیں۔

پہلا سبب حج کے لیے رجسٹرڈ 86500 شہریوں کی جانب سے ایرانی حکومت کو دھمکی دی گئی تھی اگر انہیں حج کے سفر کی اجازت نہ دی گئی تو وہ جمع کردہ رقوم واپس لے لیں گے۔ اگر حکومت اجازت نہ دیتی تو ایرانی بنکوں کو مالی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔

دوسرا سبب ایرانی حکومت کے خلاف عوامی سطح پر احتجاجی مظاہروں کا امکان تھا کیونکہ گذشتہ برس بھی جب حکومت نے شہریوں کو حج سے روکا تو تہران کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

تیسرا سبب جس کے تحت رواں سال بڑی تعداد میں ایرانیوں پر حج پر بھیجا گیا وہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا یہ خیال کہ وہ اس طرح سعودی عرب سےتعلقات میں پائی جانے والی کشیدگی کم کرسکیں گے تاہم ریاض نے تہران کے اس خیال کو مسترد کردیا کیونکہ جب تک ایران اپنا طرز عمل تبدیل نہیں کرتا اس وقت تک مملکت سعودی عرب سے اس کے تعلقات کشیدہ ہی رہیں گے۔