.

حوثیوں کا دھوکہ، علی صالح صنعاء میں اپنے محافظین سے محروم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی دارالحکومت میں حوثی ملیشیا نے معزول صدر علی عبداللہ صالح کے ہمنوا تحلیل شدہ ریپبلکن گارڈز کے افسران اور اہل کاروں کو صنعاء سے ہٹانے کے لیے عجیب چال چلی۔ مذکورہ پیش رفت حوثی ملیشیا کے اُن اقدامات کی ایک کڑی ہے جو وہ بغاوت میں شریک اپنے حلیف معزول صالح کے ساتھ 24 اگست کو شدت میں اضافے کے بعد سے بتدریج کر رہی ہے۔

تحلیل شدہ ریپبلکن گارڈز کے ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ صنعاء میں وزارت دفاع پر قابض حوثی ملیشیا نے جمعرات کے روز معزول صدر کے ہمنوا افسران اور فوجی اہل کاروں کی ایک بڑی تعداد کو آگاہ کیا کہ انہیں گزشتہ ایک برس سے روکی ہوئی تنخواہوں کی ادائیگی کی جا رہی ہے اور اس کی وصولی کے لیے تمام عناصر کو ذمار صوبے جانا ہو گا جو صنعاء کے جنوب میں 120 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ حوثیوں نے جھوٹ بول کر دھوکا دیا اس لیے کہ مذکورہ یقین دہانی پر ان میں سے کئی افراد ذمار کا سفر کرنے پر مجبور ہو گئے اور جب یہ لوگ تنخواہوں کی وصولی کے مقررہ مقام پر پہنچے تو وہاں حوثی ملیشیا کے ارکان نے ان افراد کو ذمار کے ایک عسکری کیمپ میں یرغمال بنا لیا اور ان سے موبائل فون اور شناختی کارڈ بھی چھین لیے۔

مقامی نیوز ویب سائٹ "العاصمہ آن لائن" نے خاص ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حوثیوں کے دھوکے میں آنے والے افسران اپنی تنخواہ حاصل نہیں کر سکے اور یقینا حوثیوں نے ان کو صنعاء سے دور کرنے کے لیے یہ کھیل کھیلا ہے۔

ابھی تک معزول صدر کے ہمنوا ان افسران اور فوجی اہل کاروں کی تعداد کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا جن کو حوثی ملیشیا نے تنخواہوں کی وصولی کے بہانے صنعاء سے نکل کر ذمار جانے پر مجبور کیا۔

یاد رہے کہ مبصرین دارالحکومت صنعاء میں بغاوت کے دونوں حلیفوں کے درمیان ظاہری سکون اور خاموشی کو "ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ" قرار دے رہے ہیں جہاں ہر فریق دوسرے سے چھٹکارہ پانے کے لیے موقع کی تلاش میں ہے۔