.

عراق: داعشی جنگجوؤں کے خاندان موصل کے شمال نئے مقام منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی حکام نے پیر کے روز تصدیق کی ہے کہ داعش تنظیم کے ارکان کے بیوی بچوں کو موصل کے شمال میں ایک نئے ٹھکانے منتقل کیا گیا ہے۔

عراقی فوج کے بیان کے مطابق 1400 کے قریب خواتین اور بچوں کو ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کو عراقی فوج کی انتظامیہ کے تحت بہتر خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔

اس سے قبل غیر ملکی امدادی ذمے داران نے اتوار کے روز کہا تھا کہ وہ موصل کے جنوب میں حمام العیل کیمپ میں 30 اگست سے عراقی حکام کے زیر حراست موجود خاندانوں کے حوالے سے "شدید تشویش" رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے ہفتے کے روز ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ تلعفر کی آزادی کے بعد موصل کے قریب ایک پناہ گزین کیمپ میں زیر حراست رکھنے جانے والے گھرانوں میں سے نصف خاندان ترک شہریت رکھتے ہیں۔ تاہم ان میں اکثریت بے قصور ہے اور انہوں نے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا۔ ان افراد کے اپنے وطن کوچ کرنے یا انہیں ترکی کے حکام کے حوالے کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں غور کیا جا رہا ہے۔

عراقی افواج نے تقریبا 1333 خواتین اور بچوں کو موصل کے قریب ایک کیمپ میں حراست میں لے لیا تھا۔ ان لوگوں نے تلعفر سے داعش کے نکالے جانے کے بعد خود کو کرد عراقی فورسز کے حوالے کر دیا تھا۔