الشیخ سلطان بن سحیم آل ثانی کون ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قطری حکومت کی خطے کے ممالک کے حوالے سے نا مناسب پالیسیوں پر خود حکمران خاندان کے افراد بھی نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ سابق امیر قطر کے بھتیجے اور سابق وزیر خارجہ سلطان سحیم آل ثانی کے بیٹے الشیخ سلطان بن سحیم آل ثانی نے کہا ہے کہ خلیجی بھائیوں کے معاملے میں دوحہ حکومت سے فاش غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔

انہوں نے توقع ظاہر کی قطر کے حکمراں خاندان اور اعوان و انصار کی اپیل پر دوحہ حکومت مل بیٹھ کر خلیجی ممالک کے ساتھ تنازعات کے حل کے لیے موثر اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ سب پر اجلاس میں شرکت پر زور دیتے ہیں۔

اپنے ایک بیان میں الشیخ سلطان بن سحیم آل ثانی نے کہا کہ مجھے یہ خوف ہے کہ قطر کا نام دہشت گرد ممالک کی فہرست میں شامل نہ کردیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک کے بارے میں قطر سے بہت فاش غلطیاں ہوئی ہیں۔

خیال رہے کہ الشیخ سلطان بن سحیم آل ثانی سنہ 1984ء کو دوحہ میں پیدا ہوئے۔ وہ قطر کے پہلے وزیر خارجہ الشیخ سحیم بن حمد آل ثانی کے آٹھویں فرزند ہیں۔

انہوں نے قاہرہ یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کیا اور زندگی کا ابتدائی دور علماء اور دانشوروں کی مجالس میں گذارا۔ وہ شادی شدہ ہیں اور ان کے تین بچے اور تین بچیاں محمد، سحیم، عبدالعزیز، منیٰ، عائشہ اور لطیفہ ہیں۔

الشیخ سلطان بن سحیم کے والد الشیخ سحیم بن حمد آل ثانی قطر کے سابق امیر الشیخ خلیفہ بن حمد آل ثانی کے بھائی اور سنہ 1972ء میں قطر کی آزادی کے بعد مملکت کے پہلے وزیر خارجہ رہے۔

الشیخ سحیم بن حمد آل ثانی کی قطر کو جدید ریاست بنانے میں گراں قدر خدمات ہیں۔ قطر میں اصلاحات کی تحریک اور عرب ممالک کی وحدت میں بھی ان کا کلیدی کردار رہا۔

عرب ۔ اسرائیل کشمکش کے حوالے سے الشیخ سحیم کا اصولی موقف ہمیشہ واضح رہا اور وہ قضیہ فلسطین کے منصفانہ حل کے پرزور حامی رہے ہیں۔

انہوں نے اپنے دور میں قطر کے دوسرے عرب، خلیجی اور مسلمان ممالک کے قریب کرنے میں بھی اہم خدمات انجام دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں