شام کے محفوظ زون میں باغیوں کے حملے کے بعد شدید فضائی بمباری، 30 ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

شام کے شمال مغربی علاقے میں منگل کے روز جنگجوؤں کے ایک حملے کے بعد اسدی فوج اور روس کے لڑاکا طیاروں نے شدید بمباری کی ہے۔ اس علاقے میں جھڑپوں اور فضائی حملوں میں سترہ فوجیوں سمیت تیس سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

صوبہ ادلب اور اس سے بعض ملحقہ علاقوں میں مئی میں شامی حکومت اور باغی گروپوں نے تین ملکوں روس ، ترکی اور ایران کی ثالثی میں جنگ بندی سے اتفاق کیا تھا اور ان علاقوں کو محفوظ زون قرار دیا تھا۔ اس صوبے میں تب سے جنگ بندی جاری ہے اور صورت حال نسبتاًپُرامن ہے ۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے منگل کے روز اطلاع دی ہے کہ اس صوبے کے اگلے محاذوں پر اچانک لڑائی چھڑ گئی ہے۔باغی جنگجوؤں کے مختلف دھڑوں نے ادلب اور صوبہ حماہ کے درمیان سرحدی علاقے میں واقع دیہات پر شدید حملہ کیا ہے۔ باغی دھڑوں کی قیادت القاعدہ سے ماضی میں وابستہ گروپ کررہا تھا اور وہ جنگ بندی کے سمجھوتے میں شامل نہیں ہے۔

رصدگاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے کہا کہ باغیوں کے دھاوے کے ایک گھنٹے کے بعد ہی شامی فوج نے فضائی حملے شروع کردیے تھے۔انھوں نے باغیوں کی کمک کی گذرگاہ کو نشانہ بنایا ہے ۔اس وقت ادلب کے جنوب اور صوبے حماہ کے شمالی حصوں میں بمباری جاری ہے۔انھوں نے بتایا ہے کہ روس کے لڑاکا طیاروں نے بھی باغیوں پر فضائی حملے شروع کردیے تھے لیکن ان سے متعدد شہری زخمی ہوگئے ہیں۔

رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ مئی میں جنگ بندی کے بعد اس علاقے میں روسی اور شامی لڑاکا طیاروں کی یہ شدید ترین بمباری ہے۔انھوں نے لڑائی اور فضائی حملوں میں سترہ شامی فوجیوں اور بارہ باغی جنگجوؤں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔باغیوں کے ساتھ کام کرنے والے طبی عملہ کے دو ارکان بھی مارے گئے ہیں۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے بھی اس علاقے میں شدید جھڑپوں اور سرکاری طیاروں کے فضائی حملوں کی اطلاع دی ہے۔

ادلب اور حماہ میں اس نئی لڑائی سے چند روز قبل ہی ایران ، روس اور ترکی نے ان دونوں صوبوں کے علاوہ اللاذقیہ کے بعض حصوں میں واقع محفوظ زون میں پولیس کے مشترکہ گشت کا اعلان کیا تھا۔

قبل ازیں روس نے تین دوسرے محفوظ زونز۔۔۔۔ دمشق کے نزدیک واقع مشرقی الغوطہ ، جنوب کے کچھ حصوں اور وسطی صوبے حمص کے بعض علاقوں میں ملٹری پولیس کو تعینات کردیا ہے۔جنگ بندی کے اس سمجھوتے میں داعش گروپ اور ہیئت تحریر الشام سے وابستہ جہادی شامل نہیں ہیں۔ موخر الذکر تنظیم ماضی میں شام میں القاعدہ سے وابستہ رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں