قطری حکومت کے مظالم کا شکار شہری پھوٹ پڑے

اقوام متحدہ سےشہریت کی بحالی کے لیے مداخلت کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

قطری حکومت کی جانب سے آل مرہ قبیلے کے آل غفران خاندان کے ہزاروں افراد کی شہریت کی منسوکی کا معاملہ اپنی حساسیت کی بناء پر عالمی فورمز میں زیربحث آگیا ہے۔ جنیوا میں انسانی حقوق کمیٹی کے اجلاس کے دوران بھی یہ معاملہ زیربحث لایاگیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جنیوا میں انسانی حقوق کمیٹی کے اجلاس کے دوران قطری حکومت کی جانب سے آل مرہ قبیلے کےالشیخ طالب بن شریم کے 55 افراد کی شہریت منسوخ کیے جانے اور انہیں ملک سے نکال باہر کرنے کی شدید مذمت کی گئی قبیلے کی دو سرکردہ شخصیات نے جنیوا فورم سے خطاب کرتے ہوئے مقامی افراد کی شہریت منسوخ کیے جانے کے معاملے کو اقوام متحدہ میں اٹھانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے قطری حکومت کے سامنے اپنے پانچ دیرینہ مطالبات پیش کیے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جنیوا میں گذشتہ روز ’بین الاقوامی انسانی حقوق اور قبیلہ الغفران کیس‘ کے عنوان سے خصوصی سیمینار منعقد کیا گیا۔ یہ فورم فیڈرل عرب ہیومن رائٹس تنظیم کی جانب سے اقوام متحدہ کے ہال نمبر24میں منعقد کیا گیا۔ اس اجلاس کی صدارت عبدالعزیز الخمیس نے کی جب کہ عرب اور دوسرے ممالک کے انسانی حقوق کے مندوبین کی بڑی تعداد نے اس میں شرکت کی۔ انہوں نے قبیلہ آل مرہ کے آل غفران خاندان کے 1996ء کے بعد سے ہزاروں افراد کی قطری شہریت کی منسوخی اور مرحلہ وار انہیں حاصل شہری مراعات چھیننے پر احتجاج کیا گیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے آل مرۃ قبیلے کے 56 افراد کی شہریت کی منسوخی کو قطری حکام کی طرف سے اٹھائے خطرناک اقدام کا تسلسل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ لگا تار اپنے اصلی شہریوں کی شہریت منسوخ کرنے کی قطری پالیسی سے لگتا ہے کہ دوحہ کو اپنی شہریوں سے نفرت ہوگئی ہے۔ قطری حکومت اپنی بقاء کے لیے اصلی باشندوں کو شہریت کے بنیادی حق سے بھی محروم کرنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ یہ قطر کی کھلم کھلا نا انصافی اور انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے۔

چونکہ انسانی حقوق کونسل کے اس فورم کا انعقاد منتظمین کی جانب سے آل مرۃ قبیلے کو درپیش مشکلات کو اجاگر کرنے کے لیے خصوصی طور پربلایا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اجلاس میں شرکت کے لیے متاثرہ قبیلے کی دو شخصیات کو شریک کیا گیا۔ انہوں نے اپنے ساتھ قطری حکومت کی منظم بدسلوکی، جبری ملک بدری اور ان کی شہریت کی منسوخی کے کرب ناک واقعات کی داستان تفصیل سے بیان کی۔

متاثرہ شہری محمد المری نے کہا کہ قطری حکومت ایک طرف دنیا بھر کے آوارہ لوگوں کو بھی قطر کی شہریت دینے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے مگر اس کے اصلی باشندوں کو ملک سے نکال باہر کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔

قومی انسانی حقوق کمیٹی کے سیکرٹری جنرل علی صمیح المری نے قطری حکومت کی ملک کے اصلی باشندوں کی شہریت منسوخ کرنے اور اپنے شہریوں کے خلاف انتقامی سیاست اپنانے پرحکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے قطری پراسیکیوٹر جنرل اور عدلیہ کی طرف سے شہریوں کے بنیادی حقوق کی پامالیوں پر برتی جانے والی خاموشی کو بھی جاندار تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھاکہ آل مرۃ قبیلے کے ساتھ ہونے والی نا انصافی اور بدسلوکی پر خاموش تماشائی رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا ہے۔ المری کا کہنا تھا کہ متاثرہ آل مرۃ قبیلے کے پاس اپنے سلب شدہ حقوق کے حصول کے لیے قانونی چارہ جوئی کا پورا پورا حق ہے۔

اجلاس میں شریک قطری حکومت کے عتاب کا شکار صالح الغفرانی المری نے کہا کہ میرے جنیوا آنے کا مقصد صرف یہ ہےکہ میں اپنے خاندان اور قبیلے کو درپیش مشکلات ختم کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 21 سال صبر کرلیا۔ اب ہمارے صبر کا پیمانی لبریز ہوچکا ہے۔ اب اپنے حقوق کے حصول کی بات اور مطالبہ کرنے پرہمیں پھانسی اور قبر میں پہنچا دینے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

صالح المری نے بتایا کہ سنہ 1995ء میں قطری حکومت نے ان کی شہریت کی منسوخی کا سلسلہ شروع کیا۔ انہوں نےکسی ٹھوس وجہ کے بغیر میرے والد کی قطری شہریت منسوخ کردی۔ اس وقت میری عمر صرف گیارہ سال تھی۔ اس کے بعد ہمارے پورے خاندان کی شہریت منسوخ کردی گئی۔ آج میرے تین بچے بھی ہوگئے ہیں مگر ہمیں واپس اپنے ملک میں جانے اور اپنے آباؤ اجداد کی وراثت کی ملکیت کے حصول کا حق ہیں۔ ہمارے قبیلے کے جو افراد ملک میں باقی بچ بھی گئے ہیں وہ انتقامی کارروائیوں کا سامنا کررہے ہیں۔ انہیں باعزت روزگار کا حق بھی حاصل نہیں۔

جنیوا میں قطری باشندوں کی شہریت کی منسوخی سے متعلق خصوصی اجلاس منعقد کرنے والے منتظمین اور انسانی حقوق کے مندوبین میں شامل ابو سعدہ نے کہا کہ قطر کو آل مرہ اور آل غفران قبیلے کے حوالے سے اپنی پالیسی ترک کرنا ہوگا۔ قطری حکومت کی طرف سے قبیلے کی مخالفت کی بنیاد پر اس کے افراد کو جس بے رحمی کے ساتھ انتقامی سیاست کی بھینٹ چڑھایا گیا ہے وہ کھلم کھلا نا انصافی اور نسل پرستانہ امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی قوانین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں کسی قبیلے یا گروہ کے خلاف اجتماعی انتقامی کارروائیوں کی اجازت نہیں دیتے، اگر کوئی ریاست یا حکومت اجتماعی طور پر کسی ایک طبقے کے خلاف انتقامی پالیسی اپناتی ہے تو اسے نسل پرستانہ اور امتیازی سلوک شمار کیا جاتا ہے۔

اجلاس کے دوران آل الغفران قبیلے کے دونوں کارکنوں نے کہا کہ قطری حکومت نے ان کے خلاف کئی ظالمانہ اور انتقامی اقدامات کیے۔ ان کی شہریت سلب کی، ملک سے زبردستی نکال دیا۔ ان کی جائیدادیں چھین لیں۔ ان کے بنیادی انسانی حقوق پامال کیے گئے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ ہمارے حال پر رحم کھائے اور قطر پر ہمارے سلب شدہ حقوق واپس کرنے کے لیے بھرپور انداز میں دباؤ ڈالے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں