.

امیر قطر کا جنرل اسمبلی سے خطاب، غیر مشروط مذاکرات پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں خلیجی ریاست قطر کے امیر الشیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کا قیام ان کے ملک کی خارجہ پالیسی کی پہلی ترجیح ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق الشیخ تمیم نے اپنے خطاب میں دوحہ سے ناراض ممالک پر ’غیر مشروط‘ بات چیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بین پوری دنیا میں عالمی قوانین پابندی کا کوئی موثر نظام موجود نہیں۔ جن چار عرب ممالک نے قطر کا بائیکاٹ کیا ہے وہ دوحہ کو اپنی نگرانی میں رکھنے اور جھکانے کی منصوبہ بندی پر ہیں۔

امیر قطر نے الزام عاید کیا کہ ان کے ملک کے خلاف پہلے سے طے پلان کے تحت ذرائع ابلاغ میں کردار کشی کی مہم چلائی گئی اور دوحہ کو بدنام کرنے کے لیے ابلاغی اشتعال انگیزی پھیلانے کی کوششیں کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قطر پر عاید کردہ الزامات میں کوئی حقیقت نہیں، تاہم اس کے باوجود ان کا ملک غیر مشروط بات چیت پر زور دیتا رہے گا۔ ان کی جانب سے غیر مشروط بات چیت کی دعوت ایک دوسرے کی خود مختاری کی شرط پرقائم ہے۔

الشیخ تمیم آل ثانی نے کہا کہ دہشت گردہ کے خلاف جنگ شہریوں کے بنیادی حقوق کی پامالی کا کوئی جواز نہیں۔ پوری دنیا میں دہشت گردی کی اپنی اپنی تعریف ہے۔ دہشت گردی کے حوالے سے سب کو دوہرا معیار ترک کرنا ہوگا۔

شام میں پائی جانے والی کشیدگی کے حل کے لیے انہوں نے پہلے جنیوا اجلاس میں طے پائے امور پرعمل درآمد پر زور دیا۔ انہوں نے فلسطینی دھڑوں پر باہمی مفاہمت اور مصالحت کی تکمیل پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لیبیا میں ہمیں وہاں کی قومی وفاق حکومت کو مستحکم کرنے میں اس کی مدد کرنی چاہیے۔ یمن کے بحران کے لیے بات چیت اور سیاسی عمل کا آغاز کرنے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ انہوں نے یمن کی وحدت برقرار رکھنے کا بھی مطالبہ کیا۔

کویت کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت

جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں ترکی کے صدر طیب ایردوآن نے کہا کہ ملکوں کو بحرانوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ دینا چاہئے۔ بحران بھی ہمارے پیدا کردہ ہیں جنہیں ہمیں خود ہی حل بھی کرنا ہے۔

طیب ایردوآن نے کہا کہ شام میں دہشت گرد نہتے شہریوں کو قتل کررہے ہیں اور عالمی برادری نے شامی قوم کے مصائب سے منہ موڑ رکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ترکی تین ملین سے زاید شامی مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے۔ ترکی شام میں قیام امن کے لیے جاری تمام سیاسی اور سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

صدر ایردوآن نے پناہ گزینوں کے بحران کےحل کے لیے پوری دنیا کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی ایک طرف شام میں موجود داعش اور دوسری طرف عراق میں موجود کرد دہشت گرد گروپوں کے خلاف نبرد آزما ہے۔

ترک صدر نے عراقی کردستان کی حکومت پر آزادی کے لیے ریفرنڈم منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کردستان نے عوامی ریفرنڈم کے حوالے سے ترکی کی تنبیہ کو نظرانداز کیا تو اس کے نتیجے میں ایک نئی کشیدگی جنم لے سکتی ہے۔

انہوں نے قطر اور دوسرے خلیجی ملکوں کے درمیان جاری سفارتی تنازع کےحل کے لیے کویت کی جانب سے کی جانے والی مساعی کا خیرمقدم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سب کو مل کر کرہ ارض کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی مہم چلانی چاہیے۔

ترک صدر نے روہنگیا مسلمانوں پر مظالم اور ان کے بحران کو انسانیت کے ماتھے پر ایک بدنما داغ قرار دیا۔

دہشت گردی کے خلاف صرف فوجی کارروائی کافی نہیں

نیویارک میں ہونے والے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران فرانسیسی صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کا ملک آئندہ سال انٹرنیٹ کے ذریعے دہشت گردی پھیلانے کے حوالے سے عالمی کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔

صدر عمانویل ماکروں نے کہا کہ ہم اپنے اتحادیوں کے سامنے شام کے بحران کے حل کے لیے جامع سیاسی روڈ میپ پیش کریں گے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ عالمی برادری اور عالمی طاقتوں کے الگ الگ مفادات نے شامی قوم کے مسائل اور مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ شام کے اندر رہنے والے شہری اور پناہ گزین کیمپوں میں موجود شامیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف صرف فوجی کارروائی کافی نہیں۔ اس وقت ھجرت اور دہشت گردی دنیا کو درپیش دو بڑے چیلنجز ہیں۔

انہوں نے یورپی ملکوں میں پناہ گزینوں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کی مذمت کی اور کہا کہ پناہ گزینوں سے ناروا سلوک کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔

فرانسیسی صدر نے کہا کہ برما کے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے۔ عالمی برادری کو میانمار کی حکومت پر مسلمانوں کے خلاف طاقت کا استعمال روکنے کے لیے مزید دباؤ ڈالنا چاہیے۔

دہشت گردی کے مالی سرچشمے بند کرنا ہوں گے

جنرل اسمبلی کے اجلاس سے افتتاحی خطاب میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریز نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا کی قیادت یہاں جمع ہے۔ ہم سب مل کر اس دنیا کو امن کا گہوارہ اور اس کی بہتر تعمیر کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کے ایٹمی تجربات کے باعث کروڑوں انسانوں کی جانیں خطرے میں ہیں۔

مسٹر گوٹیریس نے کہا کہ دہشت گردی کی حمایت، معاونت یا پشت پناہی کا کسی کے پاس کوئی جواز نہیں۔ ہمیں دہشت گردوں کو مالی امداد کے تمام سرچشمے بند کرنا ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں دہشت گردی کے حقیقی اسباب اور پوری دنیا میں اس کےتیزی کے ساتھ پھیلنے کے محرکات کا جائزہ لینے کے بعد ان اسباب کا خاتمہ کرنا ہوگا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے میانمار میں ریاستی دہشت گردی کے شکار مسلمانوں کی فوری مدد کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ میانمار کی حکومت کو متاثرہ علاقوں تک امدادی اداروں کو رسائی کی اجازت دینا ہوگی۔

انہوں نے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے اور تنازع فلسطین کے جلد حل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔