.

بارزانی کی 3 روز کے اندر ریفرنڈم کا متبادل پیش کرنے کی شرط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی کردستان کے صدر مسعود بارزانی نے ایک مرتبہ پھر اپنا موقف دہرایا ہے کہ بغداد کے ساتھ اربیل کی شراکت داری اختتام کو پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عراق اور کردستان عزیز پڑوسی کی طرح ہوں گے۔

سوران ضلعے میں آئندہ ریفرنڈم کی سپورٹ کے حوالے سے ہونے والی تقریب کے دوران بارزانی کا کہنا تھا کہ کردستان کے سامنے ریفرنڈم کرانے کے سوا اور کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں رہا۔ کردستان کے صدر نے مطالبہ کیا کہ تین روز کے اندر کوئی حقیقی متبادل پیش کر دیا جائے جس کے ساتھ ریفرنڈم کے التوا کے حوالے سے ضمانتیں بھی شامل ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عراقی آئین کے مطابق ریفرنڈم کرانا کردوں کا حق ہے۔ بارزانی نے مطالبہ کیا کہ دوست عناصر کردستان کے ساتھ دھمکی آمیز زبان استعمال نہ کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ "ہم کسی کی دھمکی قبول نہیں کریں گے"۔

کردستان کے صدر نے زور دے کر کہا کہ عراقی پارلیمنٹ کے تمام فیصلے کردستان کے خلاف رہے۔

بارزانی نے اس بات کا عندیہ دیا کہ کُردوں کے حقوق کی ضمانت دینے والا کوئی متبادل فراہم ہونے کی صورت میں کردستان میں 25 ستمبر یعنی ریفرنڈم کے روز عوامی سطح پر یوم مسرّت منایا جائے گا۔

بارزانی کے مطابق حالیہ عراقی ریاست وفاقی نہیں بلکہ مذہبی ہے۔