.

خمینی نے لبنانی شیعہ رہ نما کو قتل کیوں کرایا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایران میں ولایت فقیہ کے نظام کے بانی آیت اللہ علی خمینی لبنان کے ایک سرکردہ شیعہ رہ نما موسیٰ الصدر کے قتل میں بالواسطہ طور پرملوث ہیں۔

امریکی اخبار ’ریل کلیر ورلڈ‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ آیت اللہ علی خمینی کے مقربین نے لبنانی شیعہ رہ نما موسیٰ الصدر کو اس لیے قتل کردیا تھا کہ وہ ’دین اور سیاست کی یکجائی‘ کےفلسفے کے قائل نہیں تھے۔

اخبار کے ایرانی امور کے ماہر نامہ نگار انڈرو اسکاٹ کوپر نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ان کی تحقیقات یہ بتایں ہیں کہ لبنانی شیعہ عالم دین موسیٰ الصدر کے قتل میں خمینی کے مقربین ملوث ہیں۔

امریکی اخبار میں ’ایران تبدیلی لانے ولا شخص‘ کے عنوان سے شائع رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موسیٰ الصدر 39 سال سے پراسرار طور پر لاپتا ہیں۔ گم شدگی سے قبل الصدر دنیا کے مختلف مذہبی طبقات کے ساتھ رابطے میں تھے‘۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر امام موسیٰ الصدر زندہ ہوتے تو کوئی نہیں جانتا کہ ایران میں آج زندگی کیسی اور حالات کیسے ہوتے؟۔

رپورٹ کے مطابق موسیٰ الصدر ایک معتدل سیاسی شخصیات ہونے کے ساتھ ساتھ مقبول عوامی رہ نما تھے۔ وہ مذہب اور سیاست کو یکجا کرنے کےقائل نہیں رہے۔ ایران کے قم اور عراق کے النجف شہروں میں ان کے مذہبی پیروکاروں کی بہت بڑی تعداد تھی۔ انہیں آیت اللہ خمینی اپنے مشن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیتے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے مقربین کی مدد سے اسے راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔

خیال رہے کہ مشہور شیعہ رہ نما موسیٰ الصدر اگست1978ء کو موسیٰ الصدر لیبیا کے شہر طرابلس میں تھے جہاں وہ اچانک روپوش ہوگئے۔ اس کے بعد ان کے زندہ یا مردہ کوئی پتا نہیں چل سکا۔

اس دور میں لیبیا کےلیڈر معمر القذافی شاہ ایران کی اپوزیشن کے پرزور حامی تھے اور وہ انہیں اسلحہ اور رقوم بھی مہیا کرتے رہے۔ وہ شاہ ایران موسیٰ الصدر کے باہمی تعاون سے بہت خائف تھے۔