کردستان کا ریفرنڈم وقت پر ہو گا، معاملہ میرے ہاتھ میں نہیں رہا: بارزانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عراقی کردستان کے صدر مسعود بارزانی نے ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے باور کرایا ہے کہ وہ ریفرنڈم کے لیے 'ہاں' کہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کردستان بات چیت کے لیے تیار ہے مگر ایسا 25 ستمبر کو مقررہ ریفرنڈم کے بعد ہو گا۔

بارزانی کا کہنا تھا کہ عوامی معاملہ بن جانے کے بعد ریفرنڈم کا التوا کردستان کے صدر یا سیاسی جماعتوں کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔
بارزانی نے جوش سے بھرپور لہجے میں کہا کہ "اس بات کا بھی امکان ہے کہ ہم اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے جان کا نذرانہ پیش کر دیں"۔

عراقی کردستان کے صدر نے مزید کہا کہ "کئی برسوں سے ہم اس بات پر قائل ہو چکے تھے کہ اب ہم بغداد کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ ہم نے تمام فریقوں کے ساتھ مل کر مسائل کے حل تک پہنچنے اور آئین کی پاسداری کی بہت کوشش کی مگر انہوں (بغداد) نے شراکت قبول نہیں کی"۔

برزانی کے مطابق وہ گمان کر رہے تھے کہ 2003 کے بعد ایک نیا عراق بنائیں گے مگر ایک شہری جمہوری ریاست کے بجائے ایک مذہبی ریاست سامنے آئی۔

بارزانی نے عراقی حکومت پر اپنی نکتہ چینی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "انہیں چاہیے تھا کہ پیشمرگہ کے لیے اپنا اسلحہ بھیجتے مگر انہوں نے تو بجٹ میں ہی کٹوتی کر ڈالی"۔ انہوں نے کہا کہ بغداد کا خیال تھا کہ کرد منقسم ہیں اور ریفرنڈم پر کبھی ایک نہیں ہوں گے۔

بارزانی نے واضح کیا کہ "عراق کے آئین کا آئین تیار ہونے کے بعد ہم نے اس کو قبول کر لیا تاہم بغداد نے اس کی پاسداری نہیں کی اور آرٹیکل 140 پر عمل درامد نہیں کیا گیا"۔

بارزانی نے کہا کہ یہ ریفرنڈم سرحدوں کی خاکہ بندی کے لیے نہیں ہے بلکہ ہمارا خود مختاری کا حق باور کرانے کے واسطے ہے.. عراقی کردستان سو برس سے اس دن کا منتظر تھا۔

کردستان کے صدر نے تمام علاقائی اور بین الاقوامی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم پر صبح شام دباؤ ڈالا جا رہا ہے مگر ہم ناکام تجربے کی طرف نہیں لوٹیں گے۔

انہوں نے اصرار کے ساتھ کہا کہ "میں کوئی ایسا موقف اختیار نہیں کر سکتا جس سے میرے عوام کو شرمندگی ہو۔ جس کو ریفرنڈم سے انکار ہے وہ بیلٹ بکس پر جا کر اپنی رائے نفی میں دے"۔

بارزانی نے داعش تنظیم کے خلاف پیشمرگہ ملیشیا کے کردار کو سراہا اور ساتھ ہی اتحادی افواج کی بھی تعریف کی جنہوں نے داعش کے خلاف جنگ میں پیشمرگہ کو ہتھیار پیش کیے۔ البتہ برزانی کا کہنا تھا کہ پیشمرگہ نے اپنا خون پیش کیا ہے۔

تمام تر زمینی حقائق اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ عراقی کردستان علاحدگی سے متعلق 25 ستمبر کو مقررہ ریفرنڈم کرانے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔ کردستان میں ہائر الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم کے لیے 12 ہزار بیلٹ بکس تیار کر لیے گئے ہیں جن کو 2000 انتخابی مراکز پر تقسیم کیا گیا ہے۔

کمیشن کے مطابق ریفرنڈم متنازع علاقوں میں ہو گا جن میں کرکوک ، نینوی اور دیالی کے علاوہ طوزخورماتو ضلعہ بھی شامل ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم کے حوالے سے لوجسٹک ، تکنیکی اور نگرانی سے متعلق تمام تر حکمت عملی پایہ تکمیل تک پہنچ چکی ہے۔

دوسری جانب موصل یونی ورسٹی کے کھیل کے میدان میں سیکڑوں افراد نے شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے زیر قیادت ایک مظاہرے میں ریفرنڈم کے لیے اپنے انکار کا اظہار کیا۔ الحشد کی قیادت نے کردستان کے صدر مسعود بارزانی پر الزام عائد کیا کہ وہ ریفرنڈم کے ذریعے ان علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کو داعش تنظیم چھوڑ چکی ہے۔ الحشد نے برزانی سے مطالبہ کیا کہ وہ عراقی کردستان کی حدود سے باہر تمام علاقوں سے نکل جائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں