.

امریکا کا اپنے شہریوں کو کردستان میں ریفرینڈم کے دورا ن ممکنہ بد امنی پر انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ خود مختار کردستان میں سوموار کو ہونے والے آزادی ریفرینڈم کے دوران بد امنی کے واقعات رو نما ہوسکتے ہیں۔اس لیے وہ ان علاقوں میں سفر سے گریز کریں۔

سفارت خانے نے اتوار کے روز ایک سفری انتباہ جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’ امریکی شہریوں کو خاص طور پر کردستان کی علاقائی حکومت اور عراق کی وفاقی حکومت کے درمیان متنازع علاقوں میں سفر سے گریز کرنا چاہیے‘‘۔

کردستان کی علاقائی حکومت بغداد حکومت ، اقوام متحدہ ، امریکا اور برطانیہ کی مخالفت کے باوجود 25 ستمبر کو آزادی کے نام پر ریفرینڈم منعقد کرا رہی ہے اور اس نے ان ممالک کی اپیلوں کے باوجود اس ریفرینڈم کو موخر نہیں کیا ہے۔

عراق کے ہمسایہ ممالک ترکی اور ایران بھی اس ریفرینڈم کی شدید مخالفت کررہے ہیں۔انھیں یہ خدشہ لاحق ہے کہ عراقی کردستان سے متصل ان کے کرد اکثریتی علاقوں میں بھی علاحدگی کی تحریکیں زور پکڑ سکتی ہیں ۔ترکی کے کرد اکثریتی علاقے میں علاحدگی پسند پہلے ہی مرکزی حکومت کے خلاف مسلح تحریک چلا رہے ہیں اور وہ آئے دن سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

دریں اثناء عراق کے سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ شمالی شہر کرکوک کے جنوب میں ہفتے کے روز کرد سکیورٹی فورسز البیش المرکہ کی ایک گاڑی دھماکے سے تباہ ہوگئی جس کے نتیجے میں اس ملیشیا کے تین جنگجو ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق بم دھماکا داعش کے زیر قبضہ علاقوں کے نزدیک واقع قصبے دقوق میں ہوا تھا۔