.

ریفرینڈم سے ما قبل: عراقی وزیراعظم نے کرد لیڈروں کو بدعنوان قرار دے دیا

کردستان میں ریفرینڈم کے انعقاد سے ہم بے فائدہ داخلی تنازع میں الجھ جائیں گے: نیوز کانفرنس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے اتوار کے روز کردستان کے علاقائی صدر مسعود بارزانی کے مقابلے میں بغداد میں نیوز کانفرنس کی ہے اور انھوں نے کردستان میں ریفرینڈم کے انعقاد سے چندے قبل خبردار کیا ہے کہ اس کے نتیجے میں ہم ایک بے فائدہ داخلی تنازع میں الجھ کر رہ جائیں گے۔

انھوں نے کردستان کی علاقائی حکومت کے صدر مسعود بارزانی سمیت تما م کرد لیڈروں کو بدعنوان قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنی بد عنوانیوں اور داخلی مسائل کو چھپانے کے لیے ریفرینڈم کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ان مسائل میں سے ایک سرکاری ملازمین کی تن خواہوں کی عدم ادائی بھی ہے۔

حیدر العبادی نے سوال اٹھایا ہے کہ ’’ کردستان میں بڑے پیمانے ہونے والی تیل کی برآمدات میں شفافیت کیوں نہیں ہے؟شہریوں کو ان کے حسابات سے کیوں آگاہ نہیں کیا جاتا؟ ‘‘ ان کے بہ قول کردستان کے بیشتر داخلی مسائل کا بغداد سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ریفرینڈم کے بعد یہ مسائل اور بھی بدتر ہوجائیں گے۔

قبل ازیں مسعودبارزانی نے علاقائی دارالحکومت اربیل میں نیوزکانفرنس کی تھی اور انھوں نے عراق کے پڑوسی ممالک ایران اور ترکی کی اس تشویش کو مسترد کردیا ہے کہ ریفرینڈم کے انعقاد سے خطہ عدم استحکام کا شکار ہو جائےگا۔انھوں نے کہا کہ وہ بین الاقوامی سرحدوں سے متعلق قوانین کا احترام کریں گے اور خطے کی سرحدوں کا از سر نو تعیّن نہیں کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’صرف ریفرینڈم ہی ہمارے شہداء کی ماؤں کے دکھوں کا مداوا ہوسکتا ہے اور صرف آزادی کے ذریعے ہی ہم اپنے مستقبل کو محفوظ بنا سکتے ہیں‘‘۔ان کلمات کے ذریعے انھوں نے عالمی برادری کو داعش کے خلاف جنگ میں کردوں کے کردار سے آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے۔