.

ریفرینڈم کردوں کے حق خود ارادیت کے اظہار کا پہلا قدم ہے: مسعود بارزانی

صرف آزادی کے ذریعے ہی ہم اپنے تحفظ کو یقینی بنا سکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے خود مختار شمالی علاقے کردستان کے صدر مسعود بارزانی نے کہا ہے کہ سوموار کو آزادی ریفر ینڈم پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوگا۔ وہ اتوار کو علاقائی دارالحکومت اربیل میں نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔

انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:’’ ہم یہ پوچھتے ہیں کہ اگر کرد عوام ( ریفرینڈم کے ذریعے ) اپنے حق خود ارادیت کا اظہار کرتے ہیں تو اس میں حرج ہی کیا ہے؟ صرف آزادی کے ذریعے ہی ہم اپنا تحفظ کرسکتے ہیں‘‘۔

انھوں نے بغداد حکومت کے حکام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ دارالحکومت میں برسوں سے جاری ضرررساں اقدامات کے نتیجے میں وہ کردستان میں ریفرینڈم کرانے کے فیصلے پر مجبور ہوئے تھے۔

مسعود بارزانی نے کہا :’’ کرد ریفرینڈم فی الوقت پہلا قدم ہے اور اس کا مقصد از سرنو سرحدوں کا تعیّن کرنا ہے اور نہ یہ بغداد پر ’’اسٹیٹس کو ‘‘ کا نفاذ ہے‘‘۔

انھوں نے اپنی ملیشیا البیش المرکہ کے بارے میں بھی گفتگو کی ہے اور ان کا کہنا تھا کہ کرد جنگجو عراقی فوج اور بین الاقوامی فورسز کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔

مسعود بارزانی کی اس نیوز کانفرنس سے قبل تین بڑی کرد جماعتوں نے کہا تھا کہ خود مختار علاقے کردستان اور شمالی شہر کرکوک میں سوموار کو طے شدہ شیڈول کے مطابق آزادی ریفرینڈم کا انعقاد ہوگا۔انھوں نے آخری وقت میں اس کو موخر کرنے یا اس سے دستبردار ہونے سے انکار کردیا تھا۔

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی اس متنازع ریفرینڈم کو آئین کے منافی قرار دے چکے ہیں۔ اسی ہفتے عراق کے علاوہ ترکی اور ایران نے کردستان کی خود مختار حکومت پر زوردیا تھا کہ وہ مجوزہ آزادی ریفرینڈم سے دستبردار ہوجائے۔ان تینوں ممالک نے دھمکی دی تھی کہ اگر اس کے باوجود کردستان میں استصواب رائے کا انعقاد کیا جاتا ہے تو پھر اس کے خلاف غیر حتمی جوابی اقدامات کیے جائیں گے۔

ترکی اور ایران کو یہ تشویش لاحق ہے کہ شمالی عراق میں کردستان کی آزاد ریاست کے قیام کی صورت میں ان کی اپنی کرد اقلیتیں بھی آزادی کا ایسا مطالبہ کرسکتی ہیں یا اس آزاد کردستان میں شامل ہو نے کے لیے تحریک چلا سکتی ہیں جبکہ بغداد حکومت اس کو وفاق کی سالمیت کے خلاف قرار دے رہی ہے اور وہ اس کی سخت مخالفت کررہی ہے۔