.

عراقی کردستان میں ریفرینڈم ، 76 فی صد کردوں کا آزادی کے حق میں ووٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے خود مختار شمالی علاقے کردستان میں آزادی ریفرینڈم کے لیے پولنگ کا عمل مکمل ہوگیا ہے اور ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ العربیہ نیوز چینل کے نمائندے نے الیکشن حکام کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ 76 فی کردوں نے ریفرینڈم میں آزادی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

کردستان میں 53 لاکھ کے لگ بھگ رجسٹرڈ ووٹر تھے اور وہ اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکتے تھے۔ ریفرینڈم کے لیے کردستان اور کرکوک کے علاقوں میں 12072 پولنگ مراکز قائم کیے گئے تھے۔سوموار کی شام پولنگ کا عمل مکمل ہوتے ہی آزادی ریفرینڈم کے حق اور مخالفت میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی شروع کردی گئی۔دم تحریر ریفرینڈم کے ابتدائی غیر حتمی نتائج سامنے نہیں آئے تھے۔

خود مختار عراقی کردستا ن کے تین صوبوں اربیل ، سلیمانیہ اور دہوک اور ان سے متصل تیل کی دولت سے مالا مال صوبے کرکوک میں آزادی کے نام سے اس ریفرینڈم کا انعقاد کیا گیا ہے۔ابتدائی غیر حتمی نتائج آیندہ چوبیس گھنٹے میں متوقع ہیں لیکن مجموعی طور پر ’’ ہاں‘‘ میں اکثریتی نتیجے کا امکان ہے ۔آج پولنگ کے روز ہر طرف کردستان کے جھنڈے لہراتے نظر آئے ہیں اور لوگوں کا جوش وخروش دیدنی تھا۔

عراقی کردستان کے صدر مسعود بارزانی قبل ازیں یہ کہہ چکے ہیں کہ ریفرینڈم میں ’’ ہاں‘‘ میں ووٹ کا یہ مطلب نہیں ہوگا کہ فوری طور پر عراق سے آزادی کا اعلان کردیا جائے گا بلکہ اس کے بعد تو بغداد کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کا آغاز ہوگا اور مذاکرات کا یہ سلسلہ ڈیڑھ دو سال تک چل سکتا ہے۔

انھوں نے اتوار کو اربیل میں نیوزکانفرنس میں عراق کے پڑوسی ممالک ایران اور ترکی کی اس تشویش کو مسترد کردیا تھا کہ ریفرینڈم کے انعقاد سے خطہ عدم استحکام کا شکار ہو جائےگا۔انھوں نے کہا کہ وہ بین الاقوامی سرحدوں سے متعلق قوانین کا احترام کریں گے اور خطے کی سرحدوں کا از سر نو تعیّن نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’’صرف ریفرینڈم ہی ہمارے شہداء کی ماؤں کے دکھوں کا مداوا ہوسکتا ہے اور صرف آزادی کے ذریعے ہی ہم اپنے مستقبل کو محفوظ بنا سکتے ہیں‘‘۔