.

یمن: حوثیوں کے مفتی اعظم نے انٹرنیٹ کو حرام قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی ملیشیا کی جانب سے مقرر کردہ "مفتی اعظم" نے انٹرنیٹ کے حرام ہونے کا فتوی جاری کر دیا۔ باغیوں کے مفتی شمس الدین شرف الدین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ "برائیوں کا گڑھ" ہے۔ اس نے انٹرنیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس میدان میں پیسہ لگانے سے رک جائیں۔

حوثی مسلح عناصر نے فتوے کا سہارا لیتے ہوئے صنعاء صوبے کے گاؤں القابل میں بزور طاقت اس پر عمل درامد کی کوشش کی۔ گاؤں کی آبادی کے مطابق مسلح حوثیوں نے کئی گھروں پر گولیاں برسائیں جہاں انٹرنیٹ کے وائی فائی آلات نصب کیے جا رہے تھے۔

گاؤں کے لوگوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ رابطے میں تصدیق کی ہے کہ علاقے میں حوثیوں کی جانب سے مقرر نگراں محمد السمینی عرف "ابو حرب" دو روز سے انٹرنیٹ کے آلات پر فائرنگ کروا رہا ہے اور حوثیوں کے مفتی کے فتوے کی کاپی مقامی آبادی میں تقسیم کر رہا ہے۔

یمنیوں کی اکثریت وائی فائی کے استعمال کے لیے "کارڈز" خریدنے کا طریقہ کار اپناتی ہے۔ اس کی وجہ نرخوں کا کم ہونا اور بہت سے لوگوں کا گھروں تک یا موبائلوں میں انٹرنیٹ کی لائن حاصل کرنے کی قدرت نہ رکھنا ہے۔

القابل گاؤں کی آبادی کے مطابق حوثیوں نے پورے گاؤں میں گھوم پِھر کر فتوے کی کاپی بانٹی اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کو دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے نیٹ ورک کو گھر سے نہیں نکالا تو انہیں جیل میں ڈال دیا جائے گا اور جس گھر میں مکین نہ ہوں گے وہاں فائرنگ کر رکے انٹرنیٹ کے آلات کو برباد کر دیا جائے گا۔

حوثی ملیشیاؤں نے بغاوت میں اپنے حلیف معزول صدر علی عبداللہ صالح کے اعتراض کے باوجود رواں سال اپریل میں طاقت کے زور پر شمس الدین محمد شرف الدین کو"یمن کا مفتی اعظم" اور "شرعی کمیٹی کا سربراہ" مقرر کر دیا تھا۔ شمس الدین کئی برس تک ایران میں مقیم رہا ہے۔