.

ادلب میں روسی بمباری سے 12 بچوں سمیت 37 شہری جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے ’سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ نے بتایا ہے کہ گذشتہ روز ادلب گورنری میں روسی جنگی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں 12 معصوم بچوں سمیت کم سے کم 37 عام شہری جاں بحق ہوگئے۔

آبزر ویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ روسی جنگی طیاروں نے ادلب میں کئی مقامات ، شہروں، دیہاتوں اور الشغور پل پر بمباری کی جس کے نتیجے میں ایک درجن بچوں سمیت تین درجن سے زاید افراد مارے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ مئی میں روس، ایران اور ترکی کے اشتراک سے شام میں تشدد میں کمی کے حوالے سے طے پائےمعاہدے کے بعد یہ ایک روز میں عام شہریوں کی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

ادلب شہر اور اس کے اطراف میں شامی فوج اور اس کی حلیف روسی فوج گذشتہ دو ہفتوں سے مسلسل فضائی حملے کررہی ہے۔ یہ حملے قریبی شہر حماۃ اور اس کے اطراف میں موجود مزاحمتی تنظیموں کے حملوں کا جواب قرار دیا جا رہا ہے۔ ادلب اور حماۃ تینوں ملکوں کے درمیان طے پائے اس معاہدے میں شامل ہے جہاں پر کم سے کم کشیدگی پراتفاق کیا گیا ہے۔

رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ روسی طیاروں کی بمباری ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اس سے قبل روس نے ایک عسکری تنظیم کے 45 جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔