.

البغدادی کا وفادار بھارتی مبلغ قطر کا مہمان خصوصی!

سلیمان ندوی کی سعودیہ اور خلیجی ملکوں پر کڑی نکتہ چینی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’از طرف سلیمان الحسینی ندی آل ابو الامام ابو الحسن علی ندوی، اسلام کے ایک عظیم خادم امیر المومنین امیر دولت اسلامیہ عراق وشام السید ابو بکر البغدادی الحسینی حفظہ اللہ تعالیٰ جن کے ذریعہ امت کو نفع پہنچا اور اسلام کا جھنڈا بلند ہوا، فضیلۃ الشیخ قائد عالم اسلام، میں ایک عرصے سے دولت اسلامیہ کی خبروں کو توجہ کے ساتھ دیکھ اور سن رہا ہوں اور میں اس معاملے میں بہت پر جوش رہا ہوں، افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جہاد کے زمانے سے میرا اسی طرف میلا ہے۔ شام میں لڑنے والی عسکری تنظیموں کے درمیان اختلافات نے مجھے بہت دکھ پہنچایا مگر اسی دوران ایک خوش کردینے والی خبر آئی کہ آپ نے عراق کے شہر موصل کو ایک باغی لیڈر المالکی کے چنگل سے آزاد کرالیا ہے‘۔

مذکورہ الفاظ ’داعش‘ کے ترجمان ابو محمد العدنانی کے نہیں بلکہ آپ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ مذکورہ عبارت بھارت کے ایک شدت پسند مذہبی رہ نما سلیمان ندوی کے داعشی خلیفہ ابو بکر البغدادی کو لکھے گئے ایک مکتوب کا اقتباس ہے۔

یہ وہی سلیمان ندوی ہیں جنہیں سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ملکوں کی قیادت کے خلاف ہتک آمیز الفاظ استعمال کرنے کی پاداش میں سطلنت اومان سے بے دخل کیا گیا مگر قطر نے ان کا شاندار استقبال کیا ہے۔ انہیں قطری عالم دین علامہ یوسف القرضاوی کے سامنے بھی بڑے ادب واحترام کے ساتھ بیٹھے دیکھا جاسکتا ہے۔

سلیمان ندوی نے البغدادی کو مخاطب کر کے مزید لکھا کہ ’میں نے موصل کی جامع مسجد میں ماہ صیام جمعہ کا وہ پہلا خطبہ سنا جس میں آپ نے اسلامی خلافت کا اعلان کیا۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ تمام سنی قبائل اور جہادی تنظیمیں آپ کے پرچم تلے جمع ہونے کو تیار ہیں۔ کوئی آپ کے خلاف بندوق نہیں اٹھائے گا۔ ہم نے آپ کو اپنا امیرالمومنین قبول کرلیا ہے‘۔

قطر میں سلیمان ندوی کا ظہور کوئی حیرت کی بات نہیں کیونکہ قطر نے ہمیشہ ایسے لوگوں اور شخصیات کو پناہ، عزت اور ہرممکن مدد فراہم کی جو دہشت گردوں کے زیادہ قریب سمجھی جاتی رہی ہیں۔ مذکورہ عبارتیں سلیمان ندوی کے البغدادی کو لکھے گئے ایک مکتوب کا حصہ ہیں جس میں انہوں نے داعشی خلیفہ کو مزعومہ دولت اسلامی کا اعلان کرنے پر تہنیتی پیغام بھیجنے کے ساتھ غائبانہ طور پر البغدادی کی بیعت بھی کرلی تھی۔

اسلامی خلافت کے قیام کا مطالبہ

علامہ سلیمان ندوی نے اپنے مختلف خطبات میں بار بار سعودی عرب کو جہاں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا وہیں ان کے خطبات، تقاریر اور تحریریں سعودی عرب سے اسلامی خلافت کے قیام کے مطالبے سے بھی بھرپور ہیں۔

انہوں نے بار بار سعودیہ پر زور دیا کہ وہ ایک اسلامی خلافت کا اعلان کرے اور تمام جہادی تنظیموں پر مشتمل ایک کانفیڈریشن کا قیام عمل میں لائے۔ جہادی عناصر کو گرفتار کرنے اور ان کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ بند کرتے ہوئے ان کے ساتھ بات چیت کی پالیسی اپنائے۔ علماء کی نگرانی میں جہادی تنظیموں کو ایک پرچم تلے جمع کرنے کی کوشش کی جائے کیونکہ جہاد کرنے والے نوجوان گمراہ نہیں بلکہ وہ غلبہ اسلام کے لیے لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب پر زور دیا کہ وہ جہادیوں کو دہشت گرد قرار دینے سے باز آئے اور قطر کی طرح دہشت گردوں کی ہر ممکن معاونت اور مدد کرے۔

سعودی عرب کی حکومت کو لکھے گئے ایک مکتوب میں سلیمان ندوی نے ایک اسلامی فوج تشکیل دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اسلام لشکر کے لیے صرف برصغیر پاک و ہند سے سعودیہ کو پانچ لاکھ رضارکار مل سکتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر موجود سلیمان ندوی کے ایک پیغام میں قطری عالم دین الشیخ یوسف القرضاوی کو بلا اختلاف ’امام المسلمین‘ قرار دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالم اسلام کی تمام اسلامی تحریکیں اور علماء آپ کی امارت اور قیادت پر متفق ہیں۔ ساتھ ہی اپنے والد بزرگوار سیدم امام ابو الحسن علی ندوی کے بارے میں لکھا کہ وہ اخوان المسلمون کے بہت بڑے حامی تھے جنہوں نے اخوان کے بارے میں لکھا تھا کہ ’اخوان المسلمون سے محبت صرف مومن اور نفرت صرف منافق کرسکتا ہے۔

قطر میں ایک جامع مسجد میں تقریر کرتے ہوئے علامہ الندوی نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن، ایرانی صدر حسن روحانی اور امیر قطر تمیم بن حمد آل چانی پر زور دیا کہ وہ شام ، عراق اور یمن میں متحدہ محاذ تشکیل دیں، اس محاذ میں ترکی اہل سنت اور ایران اہل تشیع کی طرف سے نمائندگی کرے۔