.

قاسم سلیمانی کی کردستان میں ریفرنڈم روکنے کی درخواست مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے کرد اکثریتی صوبہ ’کردستان‘ کے ایران میں مقیم مندوب ناظم دباغ نےانکشاف کیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم تنظیم ’فیقل القدس‘ کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی نے بھی کردستان میں آزادی کے ہونے والے ریفرنڈم کو منسوخ کرانے کی درخواست کی تھی مگر صوبائی وزیراعلیٰ مسعود بارزانی نے جنرل سلیمانی کی درخواست قبول نہیں کی۔

ایرانی حکومت کے قریب سمجھی جانے والی نیوز ویب سائیٹ ’انصاف نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ناظم دباغ نے کہا کہ جنرل سلیمانی نے اربیل اور سلیمانیہ کی کرد قیادت کو تجویز دی تھی کہ وہ ریفرنڈم نہ کرائیں۔ان کے مطالبات کے حل کے لیے ایران بغداد کے ساتھ بات کرے گا۔

جنرل سلیمانی کی طرف سے پیش کش کی گئی تھی کہ تہران عراقی کردستان اور بغداد حکومت کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہے۔ ایران کے نزدیک عراق کی وحدت زیادہ اہم ہے۔ عراقی دستور کے تحت کردوں کو دیے گئے اختیارات اور حقوق انہیں فراہم کرانے اور دو طرفہ معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے تمام اقدامات کرے گا۔

عراقی کرد مندوب نے کہا کہ ان کے تہران کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہیں۔ اس تجویز کے مسترد کیے جانے کےبعد بھی دو طرفہ تعلقات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ جنرل سلیمانی کی تجویز مسترد ہونے کے بعد کرد قیادت نے اپنے شیڈول کے مطابق گذشتہ روز ریفرنڈم کرایا اور اس کے سرکاری نتائج کا اعلان 72 گھنٹوں میں کیا جائے گا۔

کردستان کے صوبائی وزیراعلیٰ مسعود بارزانی نے اتوار کی شام ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا تھا کہ انہوں نے پچھلے ہفتے جنرل قاسم سلیمانی سے ملاقات کی تھی۔ سلیمانی کردستان ہی میں تھے۔

کرد نیشنل الائنس کے ایک مقرب ذریعے کا کہنا تھا کہ سلیمانی نے کرد قیادت کو دھمکی دی تھی کہ اگرانہوں نے ریفرنڈم کا انعقاد نہ روکا تو شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کردستان پر حملہ کرسکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل سلیمانی نے کہا کہ ہم نے الحشد الشعبی کو کرکوک کی طرف بڑھنے سے روک رکھا ہے۔ اگر کردستان آزادی کے لیے ریفرنڈم کا اعلان کرتا ہے تو الحشد الشعبی کردستان پر حملہ آور ہوسکتی ہے۔