.

کردستان کے ریفرنڈم کے نتائج پر کوئی بات نہیں کریں گے: العبادی

نام نہاد ریفرنڈم سے شہریوں کی زندگی خطرے میں پڑ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت صوبہ کردستان کی حکومت کی جانب سے کرائے گئے آزادی کے ریفرنڈم کے نتائج پر کوئی بات نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ علاحدگی کے لیے ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ غیرآئین، غیر دستوری، عالمی برادری اور خطے کے ممالک کی مرضی کے خلاف ہے۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں حیدر العبادی نے کہا کہ کردستان میں علاحدگی کے لیے ریفرنڈم کرانے سے عراقی اور کرد شہریوں کی زندگیوں کے لیے ایک نیا خطرہ بن سکتا ہے۔ ریفرنڈم کرانے والے عناصر افراتفری، فساد اور دیگر سنگین نتائج کے ذمہ دار ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریفرنڈم کرانے کے نتائج کی ذمہ داری کرد عہدیداروں کو بھگتنا پڑے گی۔ عام کرد شہر اس کے ذمہ دار نہیں۔ العبادی کا کہنا تھا کہ تمام کرد شہریوں کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے

حیدر العبادی نے خبردار کیا کہ صوبہ کردستان میں ریفرنڈم کے انعقاد سے شہریوں کو ایک نئی ھجرت اور اپنی زندگیوں کو خطرات میں ڈالنے کا موجب بن سکتا ہے۔

عراقی وزیراعظم نے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح داعش کو شکست دینا اور داعش کے قبضے سے تمام علاقوں کو واپس لینا ہے۔ کردستان میں علاحدگی کے لیے ریفرنڈم کے بعد داعش کے خلاف جنگ متاثر ہوسکتی ہے۔