کردستان کے ریفرنڈم کے نتائج پر کوئی بات نہیں کریں گے: العبادی

نام نہاد ریفرنڈم سے شہریوں کی زندگی خطرے میں پڑ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت صوبہ کردستان کی حکومت کی جانب سے کرائے گئے آزادی کے ریفرنڈم کے نتائج پر کوئی بات نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ علاحدگی کے لیے ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ غیرآئین، غیر دستوری، عالمی برادری اور خطے کے ممالک کی مرضی کے خلاف ہے۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں حیدر العبادی نے کہا کہ کردستان میں علاحدگی کے لیے ریفرنڈم کرانے سے عراقی اور کرد شہریوں کی زندگیوں کے لیے ایک نیا خطرہ بن سکتا ہے۔ ریفرنڈم کرانے والے عناصر افراتفری، فساد اور دیگر سنگین نتائج کے ذمہ دار ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریفرنڈم کرانے کے نتائج کی ذمہ داری کرد عہدیداروں کو بھگتنا پڑے گی۔ عام کرد شہر اس کے ذمہ دار نہیں۔ العبادی کا کہنا تھا کہ تمام کرد شہریوں کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے

حیدر العبادی نے خبردار کیا کہ صوبہ کردستان میں ریفرنڈم کے انعقاد سے شہریوں کو ایک نئی ھجرت اور اپنی زندگیوں کو خطرات میں ڈالنے کا موجب بن سکتا ہے۔

عراقی وزیراعظم نے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح داعش کو شکست دینا اور داعش کے قبضے سے تمام علاقوں کو واپس لینا ہے۔ کردستان میں علاحدگی کے لیے ریفرنڈم کے بعد داعش کے خلاف جنگ متاثر ہوسکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں