اسرائیلی اعتراضات کے باوجود فلسطینی ریاست کو انٹرپول کی رُکنیت مل گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

بین الاقوامی پولیس ایجنسی انٹرپول نے اسرائیل کے اعتراضات کے باوجود ریاستِ فلسطین کی رکنیت کی منظوری دے دی ہے۔

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں بدھ کے روز انٹرپول کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں رکن ممالک کی اکثریت نے فلسطینی ریاست کو رکن بنانے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔انٹرپول نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنرل اسمبلی نے ریاستِ فلسطین اور سولومن جزائر کی تنظیم کی رکنیت کے لیے درخواستوں کی دوتہائی سے زیادہ اکثریت سے منظوری دی ہے ۔اب تنظیم کے رکن ممالک کی تعداد 192 ہوگئی ہے۔

فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ انٹرپول کے رکن ممالک کی اکثریت کے اصولی موقف کی وجہ سے یہ فتح ممکن ہوئی ہے‘‘ جبکہ اسرائیل اس بڑے سفارتی دھچکے پر تلملا رہا ہے اور اس نے اپنے تئیں اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہےکہ انٹرپول نے فلسطین کو رکنیت دے کر دنیا کو ایک خطرناک جگہ بنا دیا ہے۔

اسرائیل کا یہ موقف رہا تھا کہ فلسطین ایک ریاست نہیں ہے ،اس لیے بطور ملک وہ اس تنظیم میں شمولیت کا اہل نہیں ہے۔واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ماضی میں طے شدہ امن معاہدوں کے تحت فلسطینی اتھارٹی کو مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں محدود حقِ حکمرانی دیا گیا تھا۔

بیجنگ میں فلسطین کی رکنیت کے لیے درخواست پر رائے شماری سے قبل اسرائیلی وزارت خارجہ نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ صہیونی ریاست اس پر آیندہ سال تک رائے شماری موخر کرانے میں ناکام رہی ہے۔

گذشتہ سال انڈونیشیا میں انٹرپول کی منعقدہ کانفرنس کے موقع پر فلسطینی ریاست کی تنظیم میں شمولیت کے لیے کوشش کو اسرائیل نے ناکام بنا دیا تھا اور اسرائیل نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اس کے خلاف سفارتی مہم چلائی تھی اور اس کی یہ مہم کامیاب رہی ہے۔

یادرہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2012ء میں فلسطینی اتھارٹی کا درجہ مبصر سے بڑھا کر ’’ غیر رکن ریاست‘‘ کردیا تھا۔ ویٹی کن کو بھی اقوام متحدہ میں یہی درجہ حاصل ہے۔اس فیصلے کی بنا پر فلسطین کو عالمی فوجداری عدالت اور اقوام متحدہ کے تحت دوسرے اداروں میں شمولیت کا حق حاصل ہوگیا تھا۔

بعض اسرائیلی مبصرین نے اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ فلسطین انٹرپول کی رکنیت ملنے کے بعداس تنظیم سے اسرائیلیوں کے خلاف دنیا بھر میں ’ ’ ریڈ نوٹس‘‘ کے اجراء کا کہہ سکتا ہے۔اس کے تحت بین الاقوامی پولیس مطلوب کسی اسرائیلی شخص کو گرفتار کرسکتی ہے اور اس کو بے دخل کرکے فلسطین کے حوالے کرسکتی ہے۔

لیکن اس تنظیم کے طریق کار کے تحت اسرائیل کے سرکاری عہدے داروں یا فوجی افسروں کے لیے کوئی سنگین قانونی مسائل پیدا نہیں ہوں گے۔ریڈ نوٹس بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری بھی نہیں ۔اگر انٹرپول اپنی ویب سائٹ پر کسی کا نام ڈالتی ہے تو وہ رکن ممالک کو اس شخص کو گرفتار کرنے کے لیے مجبور یا پابند نہیں کرسکتی ہے۔واضح رہے کہ بیرون ملک مقیم فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں اپنے ہم وطنوں کے خلاف تشدد آمیز کارروائیوں اور جنگی جرائم میں ملوث اسرائیلی فوجیوں اور عہدہ داروں کی گرفتاری کے مطالبات کرتے رہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں