داعش کا مشہور جلّاد "جہادی جان" کُھلے چہرے کے ساتھ !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دنیا بھر میں سفاکیت اور وحشیانہ پن کی علامت سمجھی جانے والی دہشت گرد تنظیم داعش کا معروف ترین "جلّاد جان" کس کو یاد نہ ہو گا جو تنظیم کی خونی وڈیوز کا مرکزی کردار ہوتا تھا۔ دو برس سے زیادہ عرصے تک جاری ہونے والی ان وڈیوز نے لوگوں کے دلوں میں دہشت اور غصے کے تاثرات پیدا کر دیے۔

حال ہی میں منظر عام پر آنے والی ایک نایاب وڈیو میں جلاد جان یا "جہادی جان" کے نام سے مشہور داعشی محمد اموازی شام میں ایک کیفے کے اندر دیگر 3 برطانویوں کے ساتھ بیٹھا نظر آ رہا ہے۔ برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ وڈیو داعش تنظیم کے چنگل سے فرار ہو جانے والے ایک رکن نے 2014 میں کیمرے کے ذریعے بنائی۔

اخبار کے مطابق یہ کیفے شام میں داعش کا گڑھ سمجھے جانے والے الرقہ شہر میں کلاک ٹاور کے نزدیک واقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس مقام پر متعدد غیر ملکی یرغمالیوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا جن میں دو برطانوی اور دو امریکی صحافی بھی شامل ہیں۔

اکتوبر 2015 میں مارے جانے والے 27 سالہ اموازی کی شہرت داعش تنظیم کی جانب سے جاری کئی وڈیوز میں نمودار ہونے کے بعد پھیلی جن میں وہ متعدد غیر ملکی یرغمالیوں کا گلا کاٹتے ہوئے دیکھا گیا۔

یاد رہے کہ برطانوی اور امریکی سکیورٹی اداروں کی نظروں میں آنے کے بعد اموازی کو الرقہ میں ایک گاڑی میں نشانہ بنایا گیا۔

اخبار کے مطابق مذکورہ وڈیو سے برطانوی "جہادی عناصر" کے لیے داعش کی کشش ظاہر ہوتی ہے۔ تنظیم میں شمولیت اختیار کرنے والوں میں برمنگھم سے تعلق رکھنے والا جنید حسین بھی تھا جو تنظیم کے اندر مشہور ترین ہیکر شمار کیا جاتا تھا۔ اس نے سیلی جونز سے شادی کی جس نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ وہ اموازی کی ہلاکت سے کئی ماہ پہلے ایک فضائی حملے میں مارا گیا تھا۔

وڈیو میں 21 سالہ دہشت گرد ریاض خان بھی نظر آ رہا ہے۔ وہ پہلا برطانوی تھا جو برطانوی فضائیہ کے کے حملے میں ہلاک ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں